الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر دو سیاسی جماعتوں پاکستان فریڈم موومنٹ اور پاکستان تحریک اتحاد کو ڈی لسٹ کردیا، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 159 ہوگئی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے غیر فعال سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر پاکستان فریڈم موومنٹ اور پاکستان تحریک اتحاد کی رجسٹریشن ختم کرتے ہوئے انہیں ڈی لسٹ کردیا،دوسری جانب الیکشن کمیشن میں عوام پاکستان پارٹی کو ڈی لسٹ کرنے کے فیصلے کے خلاف شاہد خاقان عباسی کی اپیل پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے 7 جنوری کو پارٹی کو 60 روز کے اندر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا، جس کی مقررہ مدت کے اندر پارٹی انتخابات کراکے متعلقہ ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرادیا گیا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارٹی کے آئین میں تبدیلی سے متعلق بھی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، تاہم الیکشن کمیشن نے پارٹی کا مؤقف سنے بغیر فیصلہ کردیا۔
اس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ اگر درخواست گزار الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کوئی مزید ریکارڈ جمع کرانا چاہیں تو جمع کرا سکتے ہیں،الیکشن کمیشن نے عوام پاکستان پارٹی کی اپیل کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ مقررہ تقاضے پورے نہ کرنے والی جماعتوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔