آزاد کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست مخالف اور پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایک انتہائی اہم ثبوت سامنے آیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پریس ریلیز میں آزاد کشمیرپولیس نے بتایا کہ انہوں نے ضلع سدھنوتی کے علاقے منگ کے رہائشی عبداللہ شانی کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے ابتدائی تفتیشی بیان میں دھرنے میں موجود مسلح عناصر اور ریاستی اداروں کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں سے متعلق اہم اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص نے اپنے اعترافی بیان میں واضح کیا ہے کہ دھرنے میں مسلح افراد موجود ہیں ، اس کے بقول دھرنے میں موجود بعض عناصر نوجوانوں کو اشتعال دلا کر مسلح ہونے پر اکساتے ہیں، جبکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
موبائل فون سے برآمد ویڈیوز اہم شواہد
پولیس کے مطابق دورانِ تفتیش گرفتار عبداللہ شانی کے موبائل فون سے برآمد ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر کو بھی اہم شواہد قرار دیا گیا ہے ، ان برآمد شدہ مواد میں وہ مسلح افراد کے ہمراہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ ان تمام شواہد کا مزید فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار ملزم کے دیگر تمام باہمی روابط اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعیّن کیا جا سکے۔
فسادی جتھے کی ریاستی رٹ چیلنج کرنے اور اہلکاروں پر حملوں کا انکشاف
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کے بیان اور موبائل فون سے ملنے والے شواہد نے اس بات کی مزید تائید کی ہے کہ فسادی جتھے کے بعض عناصر عوامی حقوق کی جدوجہد کا لبادہ اوڑھ کر ریاستی اداروں پر حملہ آور ہونے اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان عناصر کی جانب سے آتشیں اسلحہ استعمال کرنے کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، جبکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کے مطابق اس طرزِ عمل کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا، عوام کو ریاست کے خلاف اکسانا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔
قانون کی رٹ برقرار ، پولیس کا دوٹوک موقف
پریس ریلیز میں پولیس نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے جائز حقوق اور پُرامن احتجاج کا ہر صورت احترام کیا جائے گا، تاہم ریاستی اداروں پر حملہ، شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنا اور قانون کی عملداری کو چیلنج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریاستی قانون کی عملداری یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معصوم شہریوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ریاست مخالف اور پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔