مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان رات گئے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس سے تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان سمیت درآمدی ممالک پر بھی معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 87 سینٹ یعنی 0.92 فیصد اضافے کے بعد 95.52 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 80 سینٹ یعنی 0.89 فیصد اضافے کے بعد 91.10 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب اماراتی مربن خام تیل کی قیمت بھی 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
اس سے ایک روز قبل منگل کو بھی دونوں بڑے عالمی بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں میں 4 ڈالر سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا برینٹ کے لیے یہ 24 جولائی کے بعد جبکہ WTI کے لیے 23 جولائی کے بعد سب سے بڑا یومیہ اضافہ تھا۔
امریکا اور ایران میں براہِ راست کشیدگی
امریکی حکام کے مطابق امریکا نے رات گئے ایران میں متعدد اہداف پر فضائی حملے کیے جس کے جواب میں ایران کی جانب سے بھی کارروائی کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف حالیہ حملوں کی کوششوں کے بعد کارروائی کی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں سب سے اہم تشویش آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ہے خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھنے یا تجارتی جہاز رانی متاثر ہونے کی صورت میں عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا پاکستان پر براہِ راست اثر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی خام تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
اگر عالمی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو پاکستان کو تیل کی درآمد پر زیادہ زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ملکی درآمدی بل اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں بجلی پیدا کرنے کی لاگت، صنعتی پیداواری اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ بالخصوص ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مال برداری اور زرعی شعبے کے اخراجات متاثر ہوسکتے ہیں۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان کے لیے مہنگائی کے دباؤ میں بھی اضافہ کرسکتا ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھنے کے اثرات مختلف شعبوں تک منتقل ہوتے ہیں۔
روپے اور معیشت پر دباؤ کا خدشہ
تیل کی درآمدی لاگت بڑھنے سے ملک کو اضافی ڈالرز درکار ہوں گے۔ اگر عالمی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر اور بیرونی ادائیگیوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عالمی خام تیل کی قیمت کے ساتھ ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، پٹرولیم لیوی، ٹیکسز اور دیگر حکومتی عوامل بھی اثرانداز ہوتے ہیں، اس لیے عالمی قیمت میں ہر اضافہ لازمی طور پر اسی تناسب سے مقامی پٹرول کی قیمت میں منتقل نہیں ہوتا۔
اہم سوال تیل کہاں تک پہنچے گا؟
ماہرین اور عالمی مارکیٹ کے سرمایہ کار اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں فوجی صورتحال اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر کشیدگی محدود رہتی ہے تو قیمتوں میں موجودہ اضافہ عارضی ہوسکتا ہے، تاہم اگر تیل کی ترسیل یا اہم تنصیبات متاثر ہوئیں تو عالمی مارکیٹ میں قیمتیں مزید اوپر جانے کا خدشہ ہے۔
ایسی صورتحال میں پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے پٹرول، ڈیزل، مہنگائی، درآمدی بل اور مجموعی معاشی دباؤ اہم چیلنج بن سکتے ہیں