انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں واقع کاواہ ایجن دنیا کے ان چند مقامات میں شامل ہے جہاں قدرت کا ایک حیران کن منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ رات کی تاریکی میں اس آتش فشاں سے نکلنے والی نیلی آگ اسے کسی دوسرے سیارے کا منظر بنا دیتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دراصل نیلا لاوا نہیں ہوتا۔ کاواہ ایجن کے آتش فشانی گڑھے میں موجود دراڑوں سے سلفر گیس خارج ہوتی ہے۔ یہ گیس آکسیجن کے ساتھ رابطے میں آ کر بھڑک اٹھتی ہے اور نیلے شعلوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
یہ شعلے بعض اوقات 5 میٹر تک بلند ہو سکتے ہیں، جس کے باعث رات کے وقت پورا علاقہ نیلی روشنی سے جگمگا اٹھتا ہے۔دن کے وقت یہ حیران کن منظر تقریباً نظر نہیں آتا اور دیکھنے والے شاید اندازہ بھی نہ کر سکیں کہ رات کی تاریکی میں یہی جگہ نیلے شعلوں سے روشن ہو جاتی ہے۔
کاواہ ایجن کی ایک اور حیران کن خصوصیت اس کے آتش فشانی گڑھے کے اندر موجود انتہائی تیزابیت والی جھیل ہے، جسے دنیا کی سب سے بڑی تیزابی جھیل قرار دیا جاتا ہے۔یہ جھیل اور رات کے وقت جلتے نیلے شعلے کاواہ ایجن کو دنیا کے منفرد ترین قدرتی مقامات میں شامل کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی دوسرے سیارے کی سرزمین ہو، مگر حقیقت میں یہ حیرت انگیز منظر ہماری اپنی زمین پر موجود ہے۔