سوشل میڈیا پر اپنی شادیوں سے متعلق افواہوں کے سوال پر سابق کپتان نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ جتنے لوگ سوشل میڈیا پر میرے نکاح کروا چکے ہیں، لگتا ہے وہ مجھے جینٹلمین بولتے ہوں گے۔
شعیب ملک نے اپنے ابتدائی کیریئر کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی ملازمت انگلینڈ میں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لیگ کرکٹ کے آغاز میں زیادہ پیسے نہیں ملتے تھے، اس لیے کرکٹ کھیلنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے آٹے کی بوریاں بھی اٹھائیں، جس کے عوض انہیں 20 پاؤنڈ ملے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سونے سے پہلے انہیں اپنا کمرہ صاف ستھرا چاہیے ہوتا ہے۔ ایڈونچر سے متعلق سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ انہیں اسپورٹس کاریں چلانے اور ڈرفٹنگ کا شوق ہے، جبکہ ان کی پسندیدہ گاڑیوں میں میک لارن پی ون بھی شامل ہے۔
سب سے غیرمعمولی کھانے کے بارے میں سوال پر سابق کپتان نے بتایا کہ انہوں نے ایک مرتبہ کچی مچھلی کھائی تھی، جسے وہ بمشکل پانی کے ساتھ نگل سکے کیونکہ اردگرد لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
اسکول کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے شعیب ملک نے کہا کہ عربی کے مضمون میں انہیں اکثر مار پڑتی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ کبھی کبھار ٹیچر سے جھوٹ بولتے تھے، تاہم بڑے جھوٹ نہیں بولے۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ دوسروں کے وقت کی قدر کرنا ہر شخص کی ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ کیمرے کے پیچھے کام کرنے والے افراد کی بھی اپنی زندگی ہوتی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سابق کپتان نے کہا کہ پوری دنیا میں اگر کسی بولر کا سامنا کرتے ہوئے انہیں خوف محسوس ہوا تو وہ شعیب اختر تھے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو فیس کرنے کا تجربہ کیسا تھا، یہ شاید وہ خود ہی بہتر جانتے ہیں۔