خیبر پختونخوا کے ضلع سوات اور ملحقہ علاقوں میں ریکٹر اسکیل پر 5.0 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
اسلام آباد کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس کا مرکز ’ہندوکش‘ کا پہاڑی سلسلہ تھا، تاہم خوش قسمتی سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
زلزلہ پیما مرکز اسلام آباد کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدھ کو سوات اور اس کے گردونواح میں محسوس کیے جانے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.0 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس زلزلے کی زیرِ زمین گہرائی 224 کلومیٹر تھی اور اس کا مرکز افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ’ہندوکش‘ کا پہاڑی سلسلہ تھا۔ گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات وسیع رقبے پر تو محسوس کیے گئے، لیکن اس کی تخریبی طاقت خاصی کم ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمہ طیبہ اور استغفار کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ خاص طور پر سوات اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں، جہاں ماضی میں بھی زلزلوں نے تباہی مچائی ہے، وہاں کے رہائشیوں میں کچھ دیر کے لیے شدید بے چینی دیکھی گئی۔ تاہم جیسے ہی جھٹکے رکے، حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے۔
نقصانات کی صورتحال اور انتظامیہ کا الرٹ
ابتدائی اطلاعات اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، اس زلزلے کے نتیجے میں سوات یا ملحقہ علاقوں سے تاحال کسی بھی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔
اس کے باوجود، مقامی ریسکیو اداروں اور اسپتالوں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ آفٹر شاکس کے پیشِ نظر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کا شمال مغربی حصہ بالخصوص خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کا خطہ ارضیاتی طور پر انتہائی حساس زون میں واقع ہے۔
یہ علاقہ ’انڈین‘ اور ’یوریشین‘ ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر موجود ہے، جہاں ان پلیٹوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے زیرِ زمین دباؤ پیدا ہوتا ہے جو زلزلوں کی شکل میں خارج ہوتا ہے۔
’ہندوکش‘کا پہاڑی سلسلہ دنیا کے ان چند خطوں میں شمار ہوتا ہے جہاں زلزلے سب سے زیادہ آتے ہیں۔ اس سے قبل بھی اس خطے میں آنے والے زلزلوں نے خیبر پختونخوا کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔