انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم پہنچ گئی ہے، جہاں قومی کھلاڑی ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں آئندہ میچ کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد قومی ٹیم کے لیے آخری مقابلہ سیریز کے اختتام کو بہتر انداز میں کرنے اور اعتماد بحال کرنے کا اہم موقع بن گیا ہے۔
پاکستانی اسکواڈ کے مزید تین کھلاڑی عبداللہ فضل، عرفات منہاس اور عمران رندھاوا بھی ٹیم کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔ ٹیم انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے بھرپور تیاری پر توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قومی ٹیم 4 ستمبر کو ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں پریکٹس سیشن کرے گی۔ اس دوران کھلاڑی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں تیاری کریں گے جبکہ کوچنگ اسٹاف پہلے دونوں میچز میں سامنے آنے والی خامیوں پر بھی کام کرے گا۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری
ٹیسٹ 9 ستمبر کو برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔
انگلینڈ نے سیریز اپنے نام کرلی
تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے دونوں مقابلوں میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز پہلے ہی اپنے نام کرلی ہے۔ قومی ٹیم اب آخری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے سیریز کا اختتام ایک مثبت نتیجے کے ساتھ کرنے کی کوشش کرے گی۔
پاکستان کے لیے آخری ٹیسٹ میچ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ٹیم شکستوں کے بعد اپنی کارکردگی میں بہتری لاکر مستقبل کے مقابلوں کے لیے اعتماد حاصل کرسکے۔ کھلاڑیوں کی نظریں اب ایجبسٹن میں بہتر کھیل پیش کرنے اور میزبان ٹیم کو سخت مقابلہ دینے پر مرکوز ہیں۔
انگلینڈ نے اسکواڈ کا اعلان کردیا
دوسری جانب میزبان انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ہے۔ انگلش ٹیم نے اسکواڈ میں چند تبدیلیاں کرتے ہوئے برائیڈن کارس اور میتھیو فشر کو باہر کردیا ہے جبکہ نوجوان کھلاڑی سونی بیکر کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
انگلینڈ کے اعلان کردہ اسکواڈ کی قیادت جو روٹ کریں گے۔ ٹیم میں جوفرا آرچر، گس اٹکنسن، شعیب بشیر، ہیری بروک، جورڈن کاکس، بین ڈکٹ، ایمیلیو گے، ڈین لارنس، اولی پوپ، اولی رابنسن، سیم کک، جیمی سمتھ اور جوش ٹنگ بھی شامل ہیں۔
انگلینڈ کی سیریز میں برتری
انگلینڈ پہلے ہی سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرچکا ہے، اس لیے میزبان ٹیم تیسرے ٹیسٹ میں بھی کامیابی حاصل کرکے پاکستان کے خلاف کلین سویپ مکمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ سیریز میں پہلی فتح حاصل کرنے کا آخری موقع ہوگا۔
قومی ٹیم کی انتظامیہ کو امید ہے کہ کھلاڑی گزشتہ دونوں مقابلوں کی خامیوں سے سبق حاصل کرکے ایجبسٹن میں مختلف حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ بیٹنگ لائن کی جانب سے بڑا اسکور اور بولنگ شعبے کی مؤثر کارکردگی پاکستان کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھے گی۔
پاکستانی کھلاڑی برمنگھم پہنچنے کے بعد اب تیسرے ٹیسٹ پر اپنی تمام توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ قومی ٹیم کی کوشش ہوگی کہ سیریز کے آخری میچ میں بہتر کھیل پیش کرکے نہ صرف انگلینڈ کو مشکل میں ڈالے بلکہ شکستوں کا سلسلہ توڑتے ہوئے سیریز کا اختتام کامیابی کے ساتھ کرے