کینیڈا کے وینکوور آئی لینڈ کے قریب سائنس دانوں نے زمین کے اندر ایک ایسا ارضیاتی عمل دریافت کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بحرِ الکاہل کے نیچے موجود ایک ٹیکٹونک پلیٹ بتدریج ٹکڑوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق کاسکیڈیا سبڈکشن زون کے شمالی حصے میں سمندر کی تہہ کے نیچے موجود پلیٹ شمالی امریکا کے نیچے دھنس رہی ہے، تاہم اس عمل کے دوران پلیٹ میں دراڑیں پڑ رہی ہیں اور اس کے مختلف حصے الگ رفتار سے نیچے جا رہے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچانک بننے والی بڑی دراڑ نہیں بلکہ لاکھوں سال پر محیط ایک انتہائی سست ارضیاتی عمل ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ٹیکٹونک حد بتدریج مختلف حصوں میں ختم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پلیٹ چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔
اس عمل کا مشاہدہ کرنے کے لیے محققین نے سیسمک ریفلیکشن امیجنگ کا استعمال کیا، جسے زمین کے اندرونی حصے کا الٹراساؤنڈ بھی کہا جاسکتا ہے۔ CASIE21 مہم کے دوران سمندر کی تہہ میں صوتی لہریں بھیجی گئیں اور تقریباً 15 کلومیٹر طویل زیر آب سینسرز کے نظام کے ذریعے ان کے انعکاس کو ریکارڈ کیا گیا۔ اس طریقے سے سائنس دانوں کو سمندر کی تہہ سے کئی کلومیٹر نیچے چھپی ساختوں کی تصویر بنانے میں مدد ملی۔
تاہم کاسکیڈیا سبڈکشن زون اب بھی انتہائی فعال ہے۔ وینکوور آئی لینڈ سے شمالی کیلیفورنیا تک سمندری پلیٹیں شمالی امریکا کے نیچے دھنس رہی ہیں۔ یہ خطہ انتہائی طاقتور میگا تھرسٹ زلزلوں کی صلاحیت رکھتا ہے اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تقریباً 6 ہزار سال کے دوران یہاں ایسے 13 بڑے زلزلے آچکے ہیں۔
اس دریافت کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ماہرین عام طور پر ٹیکٹونک پلیٹوں کی حدود کے خاتمے کے شواہد ان چٹانوں سے تلاش کرتے ہیں جو لاکھوں سال بعد باقی رہ جاتی ہیں۔ اس بار سائنس دان ایک ایسے عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو زمین کے اندر اب بھی جاری ہے۔