ہائیکوٹ کے جج بوجھل دل کے ساتھ عہدے سے مستعفی

ہائیکوٹ کے جج بوجھل دل کے ساتھ عہدے سے مستعفی

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا انہوں نے آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔

جسٹس راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ صدر پاکستان کو ارسال کیا گیا ہے جبکہ استعفیٰ کی ایک کاپی لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔

استعفیٰ کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے عدالتی منصب پر خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز اور باعثِ فخر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی منصب پر گزارا گیا عرصہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے اہم ترین اور بھرپور سالوں میں شامل رہا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے استعفے میں کہا کہ وہ عدالتی منصب سے مستعفی ہونے کے بعد قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی پریکٹس سے وسیع وابستگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

انہوں نے استعفے میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی سے اپنی وابستگی برقرار رکھتے ہوئے عدالتی بنچ سے الگ ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے سینئر ساتھی ججز اور عدالتی عملے کا بھی شکریہ ادا کیا اور عدالتی منصب پر اپنے دور کے دوران تعاون اور معاونت پر اظہارِ تشکر کیا۔

جسٹس راحیل کامران شیخ کو 7 مئی 2021 کو لاہور ہائیکورٹ میں بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے تقریباً 5 سال، 3 ماہ اور 27 دن عدالتی منصب پر خدمات انجام دینے کے بعد استعفیٰ دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں جسٹس راحیل کامران شیخ 27 ویں نمبر پر تھے۔

بطور جج ان کے عدالتی کام میں متعدد اہم فیصلے اور قانونی نکات پر مشتمل فیصلے شامل رہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق جسٹس راحیل کامران شیخ نے اپنے عدالتی دور میں 126 رپورٹڈ ججمنٹس جاری کیں۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے معمول کے مطابق عدالتی منصب پر برقرار رہتے تو جنوری 2036 میں ریٹائر ہونا تھا تاہم انہوں نے ریٹائرمنٹ سے تقریباً ایک دہائی قبل ہی منصب سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کے استعفے میں عدالتی منصب چھوڑنے کی وجہ کے طور پر کسی تنازع یا عدالتی معاملے کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ مستقبل میں قانونی اسکالرشپ پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی پریکٹس سے وابستگی کو اپنے فیصلے کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آئین کے آرٹیکل 206 کے تحت ہائیکورٹ کے جج اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو پیش کرتے ہیں۔ جسٹس راحیل کامران شیخ کی جانب سے بھی اسی آئینی شق کے تحت استعفیٰ صدر پاکستان کو ارسال کیا گیا ہے۔

جسٹس راحیل کامران شیخ کے استعفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد اور آئندہ سنیارٹی کے حوالے سے بھی انتظامی سطح پر تبدیلیاں سامنے آنے کا امکان ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles