پاکستان کے معیاری وقت کے قانون میں 78 سال بعد بڑی تبدیلی

پاکستان کے معیاری وقت کے قانون میں 78 سال بعد بڑی تبدیلی

پاکستان کے معیاری وقت سے متعلق قانون میں 78 سال بعد اہم تبدیلی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے تحت گرین وچ مین ٹائم (GMT) سے ساڑھے پانچ گھنٹے آگے ہونے کی دہائیوں پرانی قانونی شق ختم کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ نے پاکستان کے معیاری وقت سے متعلق قانون میں اہم ترمیم منظور کرلی ہے، جس کے بعد پاکستان کا قانونی معیاری وقت گرین وچ مین ٹائم سے 5 گھنٹے آگے قرار دیا جائے گا،ترمیم کے بعد پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کو قانونی طور پر GMT+5 یا UTC+5 کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔

اسٹینڈرڈ ٹائم (انٹرپریٹیشن آف ریفرنسز) (ترمیمی) بل 2026 قومی اسمبلی سے 11 مئی کو منظور ہوا تھا، جبکہ سینیٹ نے 18 اگست کو اس کی منظوری دی۔ بل اب صدرِ پاکستان کی منظوری کا منتظر ہے۔

ترمیم کے ذریعے 1943 کے اسٹینڈرڈ ٹائم آرڈیننس کی متعلقہ شق سےاور نصفکے الفاظ حذف کیے گئے ہیں، جس کے بعد قانون میں پاکستان کے وقت کو GMT سے ساڑھے پانچ گھنٹے آگے قرار دینے والی پرانی شق ختم ہوجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں :نئے صوبے وقت کی ضرورت، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے، مصطفیٰ کمال

حکام کے مطابق اس قانونی تبدیلی سے شہریوں کی گھڑیوں، دفتری اوقات یا روزمرہ معمولات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عملی طور پر GMT+5 یعنی UTC+5 پر ہی عمل کر رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا بنیادی مقصد قانون میں درج معیاری وقت اور 1951 سے ملک میں عملی طور پر رائج وقت کے درمیان موجود تضاد کو ختم کرنا ہےصدرِ پاکستان کی منظوری کے بعد ترمیم شدہ قانون پاکستان کے موجودہ معیاری وقت UTC+5 کو باضابطہ طور پر قانونی فریم ورک کا حصہ بنا دے گا۔

editor

Related Articles