وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے آزاد ڈیجیٹل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کراچی کی ترقی، بلدیاتی نظام، نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام، پیپلز پارٹی کے مؤقف، آئینی ترامیم، سندھ کو ملنے والے مالی وسائل، ادویات کی قیمتوں اور اپنے دورِ نظامت سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ چار صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ اب ملک کی موجودہ آبادی اور ضروریات کے مطابق نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان قائم ہوا تو ملک کی آبادی تقریباً 3 کروڑ 70 لاکھ تھی اور چار صوبے تھے، لیکن آج آبادی 26 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور اب بھی انتظامی طور پر وہی چار صوبے موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان رقبے کے اعتبار سے دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑے ہیں، اس لیے انتظامی سہولت اور عوام تک اختیارات کی رسائی کے لیے نئے یونٹس بنانا ضروری ہے۔
دنیا میں انتظامی یونٹس
مصطفیٰ کمال نے بھارت سمیت مختلف ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ آبادی اور انتظامی ضروریات بڑھنے کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں آزادی کے وقت 9 صوبے تھے جو اب بڑھ کر 38 ہو چکے ہیں، جبکہ ترکی، ایران، افغانستان، امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق متعدد یونٹس قائم کیے گئے،ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مقصد کسی علاقے کی شناخت ختم کرنا نہیں بلکہ عوام کو ان کے قریب بہتر انتظامی نظام فراہم کرنا ہے۔
پیپلز پارٹی کے حوالے سے موقف
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما انتظامی یونٹس کی بات ایسے پیش کرتے ہیں جیسے یہ کوئی غیر آئینی یا ناقابل قبول مطالبہ ہو،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ان سے نہیں بلکہ اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو سے اعتراض کرنا چاہیے، کیونکہ 1973ء کے آئین میں نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں وقت اور حالات کے مطابق تبدیلی نہ کی جا سکے، گزشتہ کئی دہائیوں میں متعدد آئینی ترامیم ہو چکی ہیں اور اگر کوئی نظام وقت کی ضروریات پوری نہ کرے تو اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔
سندھ تقسیم نہیں ہوگا
مصطفیٰ کمال نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو سندھ کی تقسیم قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی تقسیم اور تاریخی یا ثقافتی شناخت دو الگ معاملات ہیں۔
انہوں نے کراچی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو انتظامی ضرورت کے تحت ایک ضلع سے سات اضلاع میں تقسیم کیا گیا، لیکن اس سے نہ کراچی ختم ہوا اور نہ سندھ کی شناخت،ان کا کہنا تھا کہ جس طرح گھر بڑا ہونے پر اس میں مزید کمرے یا منزلیں بنائی جاتی ہیں، اسی طرح آبادی بڑھنے پر انتظامی یونٹس بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے
مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو تقریباً 22 ہزار ارب روپے ملے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
انہوں نے اندرون سندھ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بعض علاقوں میں خواتین کو پینے کے لیے انتہائی ناقص پانی استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ صحت اور تعلیم کا نظام بھی مشکلات کا شکار ہے،ان کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے مالی وسائل ملنے کے باوجود اگر عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو موجودہ انتظامی اور حکمرانی کے نظام پر سوال اٹھتا ہے۔
کراچی کو 300 ارب سے ترقی دی
مصطفیٰ کمال نے اپنے دور نظامت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تقریباً 300 ارب روپے انتہائی دیانت داری اور شفاف انداز میں خرچ کیے،انہوں نے کہا کہ ان کی حکمت عملی کا بنیادی اصول کرپشن سے پاک رہنا، نیت صاف رکھنا اور گراس روٹ لیول پر جا کر عملی کام کرنا تھا،ان کے مطابق اسی حکمت عملی کے نتیجے میں کراچی دنیا کے 12 تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل ہوا، جبکہ آج اتنے بڑے وسائل کے باوجود شہر بدترین مسائل سے دوچار ہے۔
مردم شماری پر سوال
مصطفیٰ کمال نے مردم شماری کے اعداد و شمار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کراچی اور حیدرآباد کو جان بوجھ کر کم آبادی والا ظاہر کیا گیا تاکہ صوبائی حکومت پر مخصوص سیاسی کنٹرول برقرار رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق غلط مردم شماری کے باوجود کراچی اور حیدرآباد سندھ کی تقریباً 43 فیصد آبادی بنتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان علاقوں کے عوام اپنے ووٹ کے ذریعے وزیراعلیٰ تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
نئے یونٹس سے احتساب بہتر ہوگا
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے وسائل مقامی سطح پر خرچ ہوں گے اور عوام اپنے منتخب نمائندوں سے براہ راست سوال کر سکیں گے،ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں چند مخصوص افراد پورے صوبے پر حکمرانی کرتے ہیں جبکہ عام شہریوں کے پاس انہیں براہ راست تبدیل کرنے کا مؤثر انتظامی راستہ موجود نہیں،انہوں نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوامی نمائندوں کی جوابدہی بڑھے گی اور ترقیاتی کاموں کی رفتار بھی تیز ہوگی۔
نوجوانوں میں مایوسی خطرناک ہے
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حد سے زیادہ مرکزیت اور ناقص حکمرانی عوام میں مایوسی پیدا کرتی ہے اور یہی صورتحال نوجوانوں میں ریاست سے دوری کا سبب بن سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ جب لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے اور حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا مؤثر راستہ نہ ملے تو معاشرے میں بے چینی اور بغاوت کے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔
اختیارات نچلی سطح تک جائیں
مصطفیٰ کمال نے آئین کے آرٹیکل 140-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کے اختیارات کو آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہیے تاکہ صوبائی حکومتیں اپنی مرضی سے بلدیاتی نظام کو تبدیل نہ کر سکیں،انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے نچلی سطح پر مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات منتقل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کیا تھا۔
26ویں، 27ویں ترمیم کا ذکر
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے دوران نچلی سطح پر اختیارات منتقل کرنے سے متعلق مسودہ بھی زیر غور تھا، تاہم پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث اسے آگے نہیں بڑھایا جا سکا،ان کا کہنا تھا کہ بہت جلد ایسا وقت آئے گا جب یہ آئینی ترمیم منظور ہوگی اور پورے پاکستان کے گلی کوچوں تک اختیارات اور وسائل منتقل ہوں گے۔
بڑی جماعتیں اختیارات نہیں دینا چاہتیں
انہوں نے کہا کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے سے گریز کرتی ہیں کیونکہ ایم پی اے اور ایم این اے کے ذریعے ترقیاتی کاموں کے اختیارات بھی سیاسی طاقت کا ذریعہ بن جاتے ہیں،مصطفیٰ کمال کے مطابق ایم این اے یا ایم پی اے کا بنیادی کام قانون سازی ہے، نالیاں اور سڑکیں بنانا مقامی حکومت یا میئر کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
آمریت کے ادوار کا حوالہ
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کیے گئے، زیادہ تر یہ عمل فوجی حکومتوں کے ادوار میں ہوا،ان کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومتوں کو بھی مقامی حکومتوں کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دینے کے معاملے پر سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔
وفاقی فنڈز کہاں جاتے ہیں؟
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق قابل تقسیم پول سے صوبوں کو اربوں روپے منتقل کرتا ہے، لیکن یہ وسائل نچلی سطح تک نہیں پہنچتےانہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وسائل ملتے ہیں تو صوبے پی ایف سی ایوارڈ کے ذریعے یہ رقم مقامی حکومتوں تک کیوں نہیں پہنچاتے؟انہوں نے کہا کہ وسائل چند وزرائے اعلیٰ اور صوبائی حکومتوں تک محدود رہنے کے بجائے براہ راست مقامی حکومتوں کو ملنے چاہئیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صوبائی سطح پر بدانتظامی اور وسائل کے ضیاع کا خمیازہ پوری ریاست کو بھگتنا پڑتا ہے، خراب گورننس سے پیدا ہونے والے مسائل کے بعد کئی مرتبہ فوج اور دیگر ریاستی اداروں کو امن و امان کی صورتحال سنبھالنے کے لیے میدان میں آنا پڑتا ہے۔
ایم کیو ایم نسلی جماعت نہیں
مصطفیٰ کمال نے مہاجر سیاست کے حوالے سے کہا کہ وہ خود کو پورے پاکستان کا عام پاکستانی اور سیاست دان سمجھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پورا پاکستان ان کا گھر ہے جبکہ کراچی ان کا بیڈروم ہے، اس لیے وہ صرف کراچی نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اب کوئی نسلی جماعت نہیں رہی اور اس میں پختون، سندھی، بلوچ اور دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ
مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب اسلام آباد سے بیٹھ کر بابو راج چلانا نہیں ہے،ان کے مطابق مطالبہ یہ ہے کہ کراچی کا حق اور فنڈز صوبائی حکومت کے بجائے براہ راست مقامی منتخب حکومت کو ملیں تاکہ شہری مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔
میئر کراچی اور وفاقی وزیر کا فرق
مصطفیٰ کمال نے اپنے دور میئر کراچی اور موجودہ وفاقی وزارت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ میئر کی حیثیت سے وہ کئی فیصلے خود کر سکتے تھے، لیکن وفاقی وزارت میں چھوٹے سے چھوٹے انتظامی فیصلے کے لیے بھی مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
پمز واقعے کا حوالہ
پمز اسپتال کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس تجربے نے ان کے انتظامی اختیارات کی منتقلی کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کا بنیادی کام اسپتال چلانا نہیں بلکہ پالیسی بنانا، ویکسین کی پیداوار، ڈریپ کے قوانین اور صحت سے متعلق قومی پالیسی مرتب کرنا ہونا چاہیے ۔
مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پاکستان میں ادویات کو ضروری اور غیر ضروری کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جبکہ 2023ء میں نگران حکومت نے غیر ضروری ادویات کو ڈی ریگولیٹ کر دیا تھا،ان کے مطابق ضروری ادویات کی قیمتیں ڈریپ کے فارمولے کے تحت طے ہوتی ہیں اور اس عمل میں متعلقہ وزارتوں کے حکام اور وزراء لاگت سمیت مختلف عوامل کا جائزہ لیتے ہیں۔
کراچی دو سال میں بہتر ہوسکتا ہے
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر کراچی کو اس کے اصل اختیارات اور وسائل فراہم کیے جائیں تو اگلے دو سال میں شہر میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
کراچی کا سالانہ حق 850 ارب روپے
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ مختلف مالیاتی فارمولوں اور ٹیکس محاصل کے حساب سے کراچی کا سالانہ جائز حق تقریباً 850 ارب روپے بنتا ہے،انہوں نے کہا کہ کراچی کو اس کا جائز حصہ تو دور کی بات، ترقیاتی کاموں کے لیے 80 ارب روپے بھی مکمل طور پر نہیں ملتے جبکہ شہر سے حاصل ہونے والا علاقائی ٹیکس بہت زیادہ ہے۔
قومی ایجنڈا قرار
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم کا موجودہ آئینی ایجنڈا صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کے گلی کوچوں تک اختیارات اور وسائل پہنچانے کا منصوبہ ہے،انہوں نے کہا کہ مضبوط مقامی حکومتیں، چھوٹے انتظامی یونٹس، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی سطح پر جوابدہی پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام عوام کی ضروریات پوری نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل بیٹھ کر اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔