تجارتی سہولیات کے لیے وزیراعظم کا بڑا فیصلہ، اہم شعبے کے قیام کی منظوری دیدی

تجارتی سہولیات کے لیے وزیراعظم کا بڑا فیصلہ، اہم شعبے کے قیام کی منظوری دیدی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تجارتی سپلائی چین میں بہتری، سرحد پار نان ٹیرف مسائل کے حل اور بندرگاہوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ’ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ‘ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کی صدارت وہ خود کریں گے۔

اجلاس میں پورٹ چارجز میں کمی اور پری ارائیول کلیئرنس کی سہولت کے باعث بندرگاہوں کے استعمال میں بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، آئی ٹی اور انسداد دہشتگردی سمیت اہم معاہدوں پر دستخط

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بندرگاہوں کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو درپیش انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور کر کے قومی معیشت کو تقویت دینا ہے۔

ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کا قیام اور دائرہ کار

اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ بااختیار ‘ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ’ کی منظوری دی گئی، جس کی باگ ڈور وزیراعظم خود سنبھالیں گے۔

یہ مجوزہ بورڈ ملک کی مکمل تجارتی سپلائی چین کی نگرانی کرے گا اور اسے متحرک بنائے گا۔ اس کے علاوہ سرحد پار تجارت کی راہ میں حائل تمام نان ٹیرف (غیر محصولاتی) امور پر اہم فیصلے کرنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔

یہ بورڈ تجارتی اصلاحات کی باقاعدہ نگرانی کے لیے ایک مضبوط حکمت عملی، روڈ میپ اور ‘ٹریڈ فیسلیٹیشن انڈیکس’ بھی ترتیب دے گا تاکہ مقررہ اہداف کا وقت پر حصول ممکن بنایا جا سکے۔

بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ اور ورکنگ گروپس کی تشکیل

وزیراعظم نے ملکی بندرگاہوں پر آپریشنل گنجائش بڑھانے اور سامان کی آمد و رفت کو بلا تاخیر یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا حکم دیا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف ورکنگ گروپ قائم کیے جا رہے ہیں جو درج ذیل اہم امور پر کام کریں گے:

بندرگاہوں کی آپریشنل صلاحیت اور گنجائش میں اضافہ۔متعلقہ تمام سرکاری و نجی محکموں کے درمیان باہمی ہم آہنگی میں بہتری۔ریگولیٹری فریم ورک کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانا۔بحری جہازوں کی پہنچ سے قبل ہی سامان کی جانچ یعنی ‘پری ارائیول کلیئرنس’ کا نظام۔بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو شامل کرنا ہے۔

تاجروں کے لیے آسانیاں اور اصلاحات کے ثمرات

شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ تمام پورٹس پر در آمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے مال کی ترسیل اور کسٹم کلیئرنس کے عمل کو زیادہ سے زیادہ سادہ اور آسان بنائیں۔

اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے جاری اصلاحات کے نتیجے میں پورٹ چارجز میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے تاجروں کی جانب سے بندرگاہوں کے استعمال میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ مزید برآں، جہازوں کی بندرگاہ پر آمد سے قبل ہی گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) جمع کرانے کی سہولت سے بھی تاجر برادری مسلسل مستفید ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں:بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے کرغزستان کو پاکستانی بندرگاہیں دینے کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، اور وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ مشیر وزیراعظم برائے صنعت ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران بھی اجلاس میں موجود تھے۔

پاکستان کی بندرگاہیں اور تجارتی راستے ماضی میں سرخ فیتہ شاہی، گڈز کلیئرنس میں تاخیر اور اعلیٰ پورٹ چارجز کی وجہ سے اضافی بوجھ کا شکار رہے ہیں۔

بین الاقوامی تجارت میں مقابلے کی فضا برقرار رکھنے کے لیے نان ٹیرف رکاوٹیں ایک بڑا چیلنج تصور کی جاتی رہی ہیں۔ اس سے قبل تاجر برادری کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ مختلف محکموں کے کسٹمز اور کلیئرنس کے طریقہ کار کو یکجا اور آسان بنایا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے پچھلے ادوار سے ہی تجارتی اصلاحات اور لسٹنگ پر کام جاری ہے، اور موجودہ اقدامات انہی مسلسل اصلاحات کا ایک تسلسل ہیں جن کا مقصد برآمدات بڑھا کر غیر ملکی مبادلہ کمانا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کی خود صدارت کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت تجارت کو ملکی معیشت کی بحالی کے لیے کلیدی عنصر مانتی ہے۔ جب تک اعلیٰ ترین سطح سے فیصلے اور مانیٹرنگ نہیں ہوگی، تب تک محکموں کی روایتی سست روی ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

Related Articles