عمران خان کو کہا تھا آپ کو رہا ہوتے نہیں دیکھ رہا،پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کا انکشاف

عمران خان کو کہا تھا آپ کو رہا ہوتے نہیں دیکھ رہا،پی ٹی آئی کے سینئر رہنما کا انکشاف

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ وہ انہیں رہا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سہیل آفریدی کو ٹکٹ دلوانے کے لیے انہوں نے خود بھرپور کوشش کی تھی۔

علی امین گنڈاپور نے اپنے تازہ بیان میں پارٹی کے اندرونی معاملات اور بانی پی ٹی آئی سے اپنی گفتگو سے متعلق مختلف انکشافات کیے،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وہ انہیں رہا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے،انہوں نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا۔

سہیل آفریدی کو ٹکٹ

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سہیل آفریدی سے متعلق بھی اہم انکشاف کیا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ان کے لیے ٹکٹ دلوانے کی خاطر لڑائی لڑی تھی ،علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو ٹکٹ دلوانے کے معاملے میں انہوں نے بھرپور کوشش کی اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان کو عدالتی کیسز میں ریلیف سے متعلق عدالت سے بڑی خبر آگئی

بلاک کرنے سے متعلق وضاحت

علی امین گنڈاپور نے سہیل آفریدی کے ساتھ تعلقات اور رابطے سے متعلق گردش کرنے والی باتوں پر بھی وضاحت پیش کی،انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے انہیں بلاک نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے خود سہیل آفریدی کو بلاک کیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے متعلق مختلف باتیں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے انہیں بلاک نہیں کیا گیا تھا۔

پارٹی کے اندرونی معاملات پر گفتگو

علی امین گنڈاپور کے ان انکشافات کو خیبر پختونخوا کی سیاست اور پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی معاملات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے،سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان سے ایک جانب بانی پی ٹی آئی کی رہائی سے متعلق ان کی سوچ سامنے آئی ہے، جبکہ دوسری جانب سہیل آفریدی کے سیاسی ٹکٹ اور دونوں رہنماؤں کے باہمی رابطوں سے متعلق بھی نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے پارٹی اور سیاسی معاملات میں ہمیشہ اپنی رائے واضح انداز میں پیش کی اور جہاں ضروری سمجھا، وہاں اپنی سیاسی ذمہ داری کے مطابق کردار ادا کیا۔

editor

Related Articles