سینئر صحافی و تجزیہ کار حسن ایوب نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کوئی فوری یا جلد بازی میں کیا جانے والا اقدام نہیں بلکہ اس کے لیے باقاعدہ آئینی و قانونی عمل اور تمام متعلقہ فریقوں کی باہمی رضامندی ضروری ہے۔
آزاد پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حسن ایوب نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود، بہتر نظم و نسق اور ملکی ترقی ہونا چاہیے، اسے سیاسی تنازع یا تصادم کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے معاملے پر اختلاف رائے فطری ہے اور مختلف موقف رکھنے والے تمام افراد ملک کے شہری ہیں، اس لیے ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
حسن ایوب نے کہا کہ کسی بھی سیاسی یا آئینی اختلاف کو تشدد، لڑائی جھگڑے یا ’مارنے اور مرنے‘ کی باتوں تک نہیں لے جانا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل بالآخر مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ماضی میں کالاباغ ڈیم سمیت مختلف معاملات پر طویل تاخیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات چاہے کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، ان کا حل بات چیت سے ہی نکالا جا سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کی اندرونی سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے حسن ایوب نے کہا کہ پارٹی میں دو مختلف مکتبہ فکر موجود ہیں، جن میں ایک مزاحمتی سیاست کا حامی ہے جبکہ دوسرا آصف علی زرداری کی قیادت میں مفاہمتی سیاست کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے اہم فیصلوں پر آصف علی زرداری کا اثر و رسوخ زیادہ نمایاں ہے جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفت نسبتاً کمزور دکھائی دیتی ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مستقبل کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ان کی حکومت کے لیے خطرے کے اشارے موجود ہیں، تاہم سندھ میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت مجموعی طور پر مستحکم ہے۔ ان کے مطابق اگر مراد علی شاہ کو تبدیل کیا گیا تو نیا وزیراعلیٰ بھی پیپلز پارٹی ہی کے اندر سے سامنے آنے کا امکان ہے۔
سندھ اسمبلی میں حکومتی وزراء اور رہنماؤں کے سخت بیانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ حسن ایوب نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن مخالفانہ رائے رکھنے والوں کے موقف کا احترام ضروری ہے۔ ان کے مطابق اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے تاہم اسے تشدد کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔
حسن ایوب نے مزید کہا کہ بیرون ملک سے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش سے مقامی سطح پر کسی جماعت کی سیاسی ساکھ لازماً بہتر نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی اس بل کی مخالفت کے لیے رابطے میں ہیں۔ حسن ایوب کا کہنا تھا کہ جب تک دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے نہیں آتا، ایسی خبروں کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ سندھ اور وہاں سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے حسن ایوب نے کہا کہ سندھ کی مقامی سیاست میں پی ٹی آئی دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پیچھے رہ چکی ہے۔ انہوں نے دورۂ سندھ کو زیادہ تر سوشل میڈیا اور تشہیر تک محدود قرار دیا اور اس دوران صوبائی حکومتی وسائل یا ہیلی کاپٹر کے استعمال سے متعلق سوالات بھی اٹھائے۔