امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ ایران جنگ امریکا میں نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشنز تک ختم ہوگی یا نہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ میں جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ چین ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اس لیے بیجنگ تہران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی واشنگٹن کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران کے آئل ٹینکرز پر حملے ہیں، ایران کا اسٹریٹیجک آبی گزرگاہ پر اختیار عملی طور پر ختم ہو چکا، جب تک ایران بحری جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا اس وقت تک امریکا تہران سے بات چیت نہیں کرے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا۔
ایران میں شادی کی تقریب پر حملے کے ردعمل میں امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکا کبھی جنگی کارروائیوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا، ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹس پر شکوک و شبہات ہیں، سینٹکام واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے۔
یہ بریفنگ وائٹ ہاؤس میں کئی ہفتوں بعد ہونے والی پہلی باضابطہ پریس بریفنگ تھی جس میں جے ڈی وینس نے سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔
ایران کے معاملے پر وینس نے امریکی مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تہران سے متعلق اطلاعات میں خاص طور پر سوشل میڈیا اور ایرانی ذرائع سے آنے والی بعض رپورٹس پر احتیاط ضروری ہے۔