بچوں کے ب فارم کے اجرا کے حوالے سے والدین میں پائے جانے والے ایک عام سوال پر نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی نے اہم وضاحت کردی ہے۔ شہری کی جانب سے پوچھا گیا کہ اگر والدہ کا شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو کیا صرف والد کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر بچوں کا ب فارم بنوایا جاسکتا ہے؟
ماں کا شناختی کارڈ نہ ہو تو کیا ہوگا؟
نادرا حکام سے ایک شہری نے سوال کیا کہ اگر ماں کا شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا تو کیا والد کے شناختی کارڈ پر بچوں کا ب فارم حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جواب میں نادرا نے واضح کیا کہ اس معاملے میں پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ والدہ کے شناختی کارڈ سے متعلق مسئلہ کس نوعیت کا ہے۔
فنگر پرنٹس سے شناخت ممکن
نادرا حکام کے مطابق اگر والدہ کا شناختی کارڈ سرے سے بنا ہی نہیں تو ایسی صورت میں لازمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بچے کا ب فارم نہیں بنے گا۔ حکام نے وضاحت کی کہ شناختی دستاویز موجود نہ ہونے کی صورت میں والدہ کی شناخت دیگر مقررہ طریقہ کار کے تحت فنگر پرنٹس کے ذریعے بھی کی جاسکتی ہے۔
خاندانی ریکارڈ میں مسئلہ ہو تو مشکلات
تاہم معاملہ اس وقت پیچیدہ ہوسکتا ہے جب والدہ کا شناختی کارڈ مکمل طور پر رجسٹرڈ نہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کا ریکارڈ بھی درست طور پر قائم نہ ہوا ہو۔ نادرا کے مطابق اگر والدہ کے شناختی کارڈ کا اندراج نہیں ہوا تو یہ امکان بھی ہوسکتا ہے کہ شادی کا اندراج مکمل نہ ہوا ہو۔
ب فارم کے اجرا میں رکاوٹ کیوں آ سکتی ہے؟
حکام کے مطابق ایسی صورت میں خاندان کا مطلوبہ خاندانی نمبر یا ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث بچے کے ب فارم کے اجرا میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاندانی ریکارڈ کی درستگی اور دستاویزات کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔
والدین دونوں کا شناختی ریکارڈ اہم
نادرا نے واضح کیا کہ بچے کے ب فارم کے معاملے میں والد اور والدہ دونوں کے شناختی ریکارڈ کا درست اور مکمل ہونا اہم ہے۔ اگر کسی ایک والدین کا شناختی ریکارڈ نامکمل ہو یا خاندانی ریکارڈ میں ضروری اندراج موجود نہ ہو تو بچے کی رجسٹریشن کے عمل میں اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
صرف ماں کا شناختی کارڈ نہ ہونا حتمی رکاوٹ نہیں
اس وضاحت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صرف یہ حقیقت کہ والدہ کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں، ہر صورت میں بچے کے ب فارم کے اجرا کی راہ میں حتمی رکاوٹ نہیں بنتی۔ اصل مسئلہ والدہ کے شناختی ریکارڈ، شادی کے اندراج اور خاندان کے ریکارڈ کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متعلق ہوسکتا ہے۔
والدین کے لیے اہم مشورہ
والدین بچوں کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے شناختی دستاویزات اور خاندانی ریکارڈ کی صورتحال چیک کرلیں۔ اگر والدہ کا شناختی کارڈ ابھی تک نہیں بنا تو متعلقہ طریقہ کار کے ذریعے اس کی رجسٹریشن مکمل کرانا مستقبل میں بچوں کی دستاویزات کے حصول کو آسان بنا سکتا ہے۔
نادرا کے مقررہ طریقہ کار پر عمل کریں
نادرا کے مطابق والد اور والدہ دونوں کے شناختی کارڈ کا اجرا اور خاندانی ریکارڈ کی درستگی بچوں کی رجسٹریشن کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں غیر متعلقہ افراد یا غیر قانونی ذرائع کے بجائے نادرا کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق مسئلہ حل کریں