مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی اور اس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکا میں ایک غیر معمولی قانون سازی کی کوشش سامنے آگئی ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایسا بل سینیٹ میں پیش کیا ہے جس میں انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال پر مستقل پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔
برنی سینڈرز کا کہنا ہے کہ بے قابو مصنوعی ذہانت انسانی آزادی اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی ترقی اگر مناسب نگرانی اور واضح قوانین کے بغیر جاری رہی تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ معاشرے اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
مصنوعی فوق الذہانت پر پابندی کی تجویز
سینیٹ میں پیش کیے گئے بل میں مصنوعی فوق الذہانت کی تیاری اور استعمال کو مستقل طور پر روکنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتہائی جدید مصنوعی ذہانت کی مزید ترقی کو بھی عارضی طور پر روکنے کی بات کی گئی ہے تاکہ اس شعبے کے لیے مؤثر حفاظتی اصول اور نگرانی کا نظام وضع کیا جاسکے۔
عالمی معاہدے کی بھی تجویز
برنی سینڈرز کی تجویز صرف امریکا تک محدود نہیں بلکہ اس میں عالمی سطح پر مصنوعی فوق الذہانت کی دوڑ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ بل میں امریکا کی جانب سے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایسے معاہدے کرنے کی تجویز شامل ہے جن کے ذریعے انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کی تیاری اور پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکے۔
انسانی آزادی اور سلامتی کا معاملہ
برنی سینڈرز کے مطابق مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر بے قابو چھوڑ دینا انسانی آزادی اور سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کے ساتھ انسانی مفادات اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
اے آئی کی نگرانی پر بھی سوالات
رکن کانگریس گریگ کاسار نے بھی مصنوعی ذہانت کے موجودہ ضابطہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ انتہائی تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن اس کے مقابلے میں نگرانی اور قانون سازی کا نظام ابھی بہت پیچھے ہے۔
گریگ کاسار نے موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو کھانے کے ٹرک سے بھی کم ضابطوں کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ ان کے بیان نے بھی امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے حوالے سے جاری بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
مصنوعی فوق الذہانت سے مراد ایسی جدید مصنوعی ذہانت ہے جو مختلف شعبوں میں انسانی ذہانت کے برابر یا اس سے بھی زیادہ صلاحیت حاصل کرسکے۔ ماہرین کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال اور انسانی نگرانی سے باہر ہونے کے خدشات پر بھی بحث جاری ہے۔
برنی سینڈرز کی جانب سے بل پیش کیے جانے کے بعد امریکا میں مصنوعی ذہانت کی ترقی، اس کی نگرانی اور مستقبل میں اس کے استعمال کے حوالے سے بحث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ تاہم اس تجویز کو قانون بننے کے لیے امریکی قانون ساز ادارے میں مزید مراحل سے گزرنا ہوگا۔


