کروڑوں سال پہلے پھٹنے والے ستاروں کا ریکارڈ چاند پر محفوظ ہونے کا امکان

کروڑوں سال پہلے پھٹنے والے ستاروں کا ریکارڈ چاند پر محفوظ ہونے کا امکان

چاند کی مٹی میں کروڑوں سال پرانے خلائی واقعات کا ریکارڈ چھپا ہونے کا امکان ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق چاند کی سطح سے تقریباً ایک میٹر گہرائی میں موجود مٹی میں قدیم ستاروں کے دھماکوں اور دیگر کائناتی واقعات کے نشانات محفوظ ہوسکتے ہیں۔

ایک نئی سائنسی تحقیق میں پیش کیے گئے ماڈل کے مطابق چاند کی مٹی میں 8 سے 10 کروڑ سال پرانے ستاروں کے ملبے کے مختلف آئسوٹوپ نشانات موجود رہ سکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ کسی کروڑوں سال پرانے مکمل ریکارڈ کی دریافت نہیں بلکہ ایک سائنسی پیش گوئی ہے کہ چاند کی مٹی میں ایسے کائناتی شواہد کس طرح محفوظ ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں انہیں کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملکی وے سے غیر مرئی چیز گزر ، ستاروں کی حرکت نے سائنسدانوں کو حیران کردیا

ماہرین کے مطابق چاند کی سطح پر مسلسل شہابیوں کے ٹکراؤ ہوتے رہتے ہیں، اس لیے وہاں محفوظ کائناتی ریکارڈ زمین کی کسی کتاب کی طرح ترتیب سے موجود نہیں ہوگا بلکہ مٹی کی مختلف تہوں میں بکھری ہوئی شکل میں مل سکتا ہے۔

تحقیق میں آئرن 60 اور پلوٹونیم 244 جیسے نایاب ریڈیو ایکٹو آئسوٹوپس پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ آئرن 60 نسبتاً کم عرصے کے کائناتی واقعات کا سراغ دے سکتا ہے، جبکہ پلوٹونیم 244 کی نصف زندگی تقریباً 8 کروڑ 10 لاکھ سال ہے، جس کی وجہ سے یہ انتہائی قدیم خلائی واقعات کے شواہد تلاش کرنے کے لیے زیادہ اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہیکرز فنگر پرنٹس تک کیسے پہنچ رہے ہیں؟ پی ٹی اے نے اہم انکشاف کردیا

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چاند کی گہری مٹی کا تفصیلی مطالعہ مستقبل میں یہ جاننے میں مدد دے سکتا ہے کہ قریبی سپرنووا یا نیوٹران ستاروں کے تصادم جیسے طاقتور واقعات کے دوران بننے والے بھاری عناصر زمین اور چاند تک کب اور کس طرح پہنچے۔

اس تحقیق سے یہ امکان بھی سامنے آتا ہے کہ چاند مستقبل میں کائنات کے قدیم واقعات کا ایک قدرتی ریکارڈ بن سکتا ہے، کیونکہ اس کی سطح پر زمین کی طرح ہوا، پانی اور دیگر قدرتی عوامل موجود نہیں جو ایسے شواہد کو تیزی سے تبدیل کرسکیں۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں شائع ہوئی ہے۔

editor

Related Articles