خوش قسمتی اور دولت کے لیے لوگ دنیا بھر میں مختلف طریقے آزماتے ہیں، لیکن تھائی لینڈ میں قسمت بدلنے کی ایک ایسی انوکھی رسم توجہ کا مرکز بن گئی ہے جس میں لوگوں کے چہروں پر سونے کی پتیاں لگائی جاتی ہیں۔
تھائی لینڈ کے تاریخی شہر ایوتھایا میں لوگ ایک مخصوص مقام پر پہنچتے ہیں، جہاں اپنی باری کا انتظار کرنے کے بعد ان کے ماتھے، گالوں اور ٹھوڑی پر سونے کی انتہائی باریک پتیاں چپکائی جاتی ہیں۔ چند ہی لمحوں میں سونے کی ان پتلی تہوں سے پورا چہرہ ایک چمکتے ہوئے سنہری ماسک کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے۔
یہ رسم ناناتھونگ کہلاتی ہے اور اس کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ چہرے پر سونا لگوانے سے خوش قسمتی اور دولت متوجہ ہوتی ہے، جبکہ کاروبار اور کام میں کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ رسم خاص طور پر چھوٹے تاجروں اور کاروباری افراد میں مقبول بتائی جاتی ہے۔ کاروبار میں مندی یا مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے بعض افراد بہتر قسمت کی امید میں اس رسم میں شرکت کرتے ہیں۔
رسم کے دوران فینگ شوئی کے ماہرین یا بدھ راہب شرکا کے چہروں پر سونے کی پتیاں لگاتے ہیں۔ اس روایت سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف دولت اور خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے بلکہ خود اعتمادی اور دوسروں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس منفرد رسم کی تصاویر اور ویڈیوز بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب شرکا کے چہرے مکمل طور پر سنہری دکھائی دیتے ہیں۔
تاہم ماہرین واضح کرتے ہیں کہ خوش قسمتی، دولت یا کاروباری کامیابی سے متعلق یہ دعوے روحانی اور ثقافتی عقائد پر مبنی ہیں اور ان کے اثرات سائنسی طور پر ثابت نہیں ہوئے۔ یوں تھائی لینڈ کی یہ قدیم روایت آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے، جہاں چند لمحوں کے لیے چہرہ سونے سے ڈھک کر لوگ بہتر قسمت کی امید باندھتے ہیں۔