نئے صوبے کے قیام کی بحث کے ساتھ ہی ممکنہ صوبے کی قیادت کا سوال بھی عوامی سطح پر زیرِبحث آنے لگا ہے۔ سرگودھا کے عوامی حلقوں نے رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئے صوبے کا قیام عمل میں آتا ہے اور سرگودھا اس کا حصہ بنتا ہے تو اس خطے کی قیادت بھی علاقے سے تعلق رکھنے والی تجربہ کار اور بااثر سیاسی شخصیت کے سپرد ہونی چاہیے۔
عوامی رائے میں ممکنہ وزیراعلیٰ کے لیے ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، سمیرا ملک اور ڈاکٹر لیاقت علی خان کے نام نمایاں طور پر سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں سے کسی ایک کو نئے صوبے کی قیادت ملنے کی صورت میں سرگودھا سمیت وسیب کے دیگر علاقوں کی محرومیوں، انتظامی مسائل اور ترقیاتی ضروریات کو بہتر انداز میں اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
تاہم یہ امر واضح ہے کہ یہ نام عوامی رائے اور ممکنہ سیاسی منظرنامے کے طور پر سامنے آئے ہیں، کسی شخصیت کو وزیراعلیٰ نامزد نہیں کیا گیا۔ نئے صوبے کے قیام، اس کی حدود اور بعد ازاں صوبائی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ آئینی اور سیاسی عمل کے ذریعے ہوگا۔
ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نمایاں امیدوار کے طور پر زیرِبحث
سرگودھا کے عوامی حلقوں میں ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ کا نام اس حوالے سے خاص اہمیت کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ وہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ہیں اور قومی سطح پر بھی سیاسی و حکومتی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق وہ ماضی میں رکن پنجاب اسمبلی اور صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
حالیہ برسوں میں بھی ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ وفاقی سطح پر ذمہ داریاں ادا کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے حامی انہیں نئے صوبے کے ابتدائی انتظامی مرحلے کے لیے ایک تجربہ کار نام قرار دیتے ہیں۔
عوامی رائے رکھنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نیا صوبہ بنتا ہے تو اس کے پہلے وزیراعلیٰ کے لیے ایسا شخص موزوں ہوگا جسے انتظامی معاملات، پارلیمانی سیاست اور علاقے کے مسائل کا عملی تجربہ حاصل ہو۔
سمیرا ملک کا نام بھی سامنے آگیا
ممکنہ وزیراعلیٰ کے لیے سمیرا ملک کا نام بھی سرگودھا کے عوامی حلقوں کی جانب سے تجویز کیا جا رہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں قیادت کے لیے خواتین کو بھی موقع ملنا چاہیے اور ایک تجربہ کار خاتون سیاسی رہنما صوبائی سطح پر نئی مثال قائم کرسکتی ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق نئے صوبے کی قیادت کا فیصلہ صرف سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں انتظامی صلاحیت، عوامی رابطہ، سیاسی تجربہ اور پورے خطے کو ساتھ لے کر چلنے کی اہلیت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ڈاکٹر لیاقت علی خان بھی ممکنہ ناموں میں شامل
سرگودھا کے عوام نے ڈاکٹر لیاقت علی خان کا نام بھی ممکنہ وزیراعلیٰ کے طور پر تجویز کیا ہے۔ وہ سرگودھا کی سیاست میں معروف نام ہیں اور ماضی میں پنجاب اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ حالیہ ضلعی سطح کے انتظامی و سیاسی فورمز میں بھی ان کا نام شامل رہا ہے۔
ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں مقامی سیاسی قیادت کو آگے لانا ضروری ہوگا تاکہ صوبے کے دور دراز علاقوں کے مسائل براہ راست صوبائی فیصلہ سازی کا حصہ بن سکیں۔
سرگودھا کے عوام کی اصل ترجیح کیا ہے؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے صوبے کا مطالبہ صرف انتظامی حدود تبدیل کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں سب سے اہم مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، روزگار کے مواقع، صحت، تعلیم، سڑکوں، زراعت، صنعت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہوگا۔
شہریوں کے مطابق سرگودھا ڈویژن سمیت نئے صوبے میں شامل ہونے والے علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں میں مناسب حصہ ملنا چاہیے اور ایسا انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جانا چاہیے جس میں عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔
وزیراعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ کیسے ہوگا؟
اگر مستقبل میں نیا صوبہ آئینی طور پر قائم ہوتا ہے تو اس کے وزیراعلیٰ کا انتخاب عوامی رائے شماری یا کسی غیر رسمی نامزدگی سے نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی تشکیل اور آئینی پارلیمانی عمل کے ذریعے ہوگا۔
اس لیے ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ ، سمیرا ملک یا ڈاکٹر لیاقت علی خان میں سے کسی ایک کو فی الحال حتمی وزیراعلیٰ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم ان ناموں کا عوامی سطح پر زیرِبحث آنا اس بات کی علامت ہے کہ نئے صوبے کی بحث اب صرف صوبے کے قیام تک محدود نہیں رہی بلکہ لوگ اس کی ممکنہ قیادت اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
عوام کا مطالبہ، قیادت بھی خطے سے ہونی چاہیے
سرگودھا کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نیا صوبہ بنتا ہے اور سرگودھا اس میں شامل ہوتا ہے تو صوبے کی قیادت ایسے سیاسی رہنما کے ہاتھ میں ہونی چاہیے جو اس خطے کے مسائل، عوامی ضروریات اور زمینی حقائق سے واقف ہو۔
عوامی رائے میں ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، سمیرا ملک اور ڈاکٹر لیاقت علی خان کے نام سامنے آنے کے بعد اب یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر نئے صوبے کا خواب حقیقت بنتا ہے تو سرگودھا سمیت وسیب کی قیادت کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہوگی؟