لاہور سیاسی اعتبار سے پنجاب کا سب سے اہم شہر سمجھا جاتا ہے اور صوبائی و قومی سیاست میں مرکزی کردار رکھتا ہے ، یہ شہر کئی اہم سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کا مضبوط سیاسی مرکز بھی رہا ہے، جبکہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کی سیاست میں لاہور کی خاص اہمیت ہے۔
لاہور ڈویژن، پنجاب کا اہم اور گنجان آباد ڈویژن ہے ، اس میں لاہور، قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب سمیت 4 اضلاع شامل ہیں ، لاہور کو الگ صوبہ بنانے کی صورت میں سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ نئے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کس شخصیت کو ملنی چاہیے؟
آزاد ڈیجیٹل کے نمائندوں نے جب شہریوں سے یہی سوال کیا تو مختلف اور دلچسپ آرا سامنے آگئیں ، ہم ان کی زبانی آپ کو بتائیں گے لیکن جو تین نام سب سے اہم رہے اس میں میاں حمزہ شہباز، میاں عامر محمود اور علیم خان نمایاں امیدواروں کے طور پر سامنے آئے۔
شہریوں نے اپنی اپنی سیاسی ترجیحات اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آرا کا اظہار کیا ، بعض افراد نے حمزہ شہباز کو انتظامی اور سیاسی تجربے کی بنیاد پر موزوں قرار دیا جبکہ کچھ شہریوں نے میاں عامر محمود اور علیم خان کے ناموں کو بھی قابلِ غور قرار دیا۔
لاہور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ حمزہ شہباز کو وزیراعلی دیکھنا چاہتے ہیں ، حمزہ شہباز پنجاب کی سیاست میں ایک نمایاں نام ہیں اور صوبائی حکومت کی قیادت کا تجربہ رکھتے ہیں۔
متعدد شہریوں کا خیال تھا کہ سیاسی تجربہ نئے صوبے کو ابتدائی مرحلے میں بہتر سمت دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے اور ان کے نزدیک لاہور کا وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو ہونا ہی چاہیے ،ان کے دل کی رائے یہی ہے کہ حمزہ کو موقع ملنا چاہیے ۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ نئے صوبے کی صورت میں وزیراعلیٰ ایسا ہونا چاہیے جو لاہور کے مسائل کو سمجھتا ہو، انتظامی معاملات پر گرفت رکھتا ہو اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوا ور یہ تمام خوبیاں حمزہ شہبازمیں موجود ہیں ۔
اسی طرح بعض شہریوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میاں عامر محمود کو آنا چاہیے کیونکہ انہوں نے بچوں ، نوجوانوں کی تعلیم کیلئے پس پردہ رہ کر بہت کام کیا ہے ان کی جدوجہد زیادہ ہے جوکہ ایک نشانی ہے کہ وہ خود پیچھے رہتا ہے اور آگے لوگوں کو پروموٹ کرتا ہے تو انہیں چانس ملنا چاہیے۔
میاں عامر محمود لاہور کی سیاست اور شہری معاملات میں ایک معروف نام ہیں، جبکہ علیم خان بھی پنجاب کی سیاست میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔
لاہور ، قصور کے شہریوں نے محمد علیم خان کو بھی وزیراعلیٰ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا کیونکہ وہ پنجاب کی سیاست میں اہم کردار ادا کرچکے ہیں اور ان کے نزدیک نئے لوگوں کو موقع ملنا چاہیے۔
لاہوریوں کی بڑی تعداد اپنی رائے کا جہاں اظہار کرتی نظر آئی وہیں چند لوگوں نے کسی بھی شخصیت کا نام لینے سے گریز کیا لیکن جب بھی صوبے کا قیام عمل میں آتا ہے تو یقینا عوام کی رائے اور ووٹ بینک ہی اس منصب کے تعین میں مددگار ثابت ہوگا۔
فی الحال عوامی رائے میں سامنے آنے والے یہ تین نام اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شہری نئی صوبائی قیادت کے لیے تجربے، انتظامی صلاحیت اور لاہور سے مضبوط تعلق کو اہم سمجھتے ہیں۔