بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں،72 گھنٹوں میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 48 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان: سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں،72 گھنٹوں میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج  کے 48 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے دوران بھارتی پراکسیز، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 36 بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 4 ستمبر کو مستونگ میں آپریشن کے دوران دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کرکے انہیں نشانہ بنایا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ گولہ بارود کے ذخیرے اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی موقع پر ہی تباہ کردیے گئے۔

ایک اور کارروائی ضلع کوئٹہ کے علاقے شعبان میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے 4 خوارج کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد 26 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قلات میں بھی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کرکے 2 بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ ایران مکمل ، ایرانی صدر اور اعلی حکام سے اہم ملاقاتیں، آئی ایس پی آر

ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن بھاگ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران بلوچستان بھر میں بھارتی پراکسی، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 48 دہشتگردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

بیان کے مطابق علاقے میں دیگر بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل انسداد دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی، تاکہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرے کا خاتمہ کیا جاسکے۔

Related Articles