بہاولپور کے عوام نے اپنا ممکنہ وزیراعلیٰ چن لیا؟ 4 اہم نام سامنے آگئے

بہاولپور کے عوام نے اپنا ممکنہ وزیراعلیٰ چن لیا؟ 4 اہم نام سامنے آگئے

ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث نے بہاولپور کے عوام میں ایک بار پھر اپنی صوبائی حیثیت کی بحالی کی امید پیدا کردی ہے۔ بہاولپور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جاتے ہیں تو بہاولپور کی تاریخی صوبائی حیثیت بھی بحال کی جانی چاہیے، جو یہاں کے عوام کا طویل عرصے سے دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔

بہاولپور کے مختلف عوامی اور سیاسی حلقوں میں نئے صوبے کے قیام اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ شہریوں کی جانب سے ممکنہ صوبے کے وزیراعلیٰ کیلئے مخدوم احمد محمود، طارق بشیر چیمہ، پرنس بہاول عباسی اور ریاض حسین پیرزادہ کے نام تجویز کیے جارہے ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور کو صوبائی حیثیت ملنے سے خطے کے انتظامی مسائل مقامی سطح پر حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

بہاولپور کی صوبائی حیثیت کا مطالبہ

بہاولپور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ محض سیاسی معاملہ نہیں بلکہ علاقے کی تاریخی، انتظامی اور عوامی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق بہاولپور ایک سابق ریاست کی حیثیت سے اپنی منفرد تاریخ رکھتا ہے اور یہاں کے عوام طویل عرصے سے صوبائی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھی بہاولپور صوبے کی بحالی کا معاملہ سیاسی سطح پر زیرِبحث رہا ہے۔ سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے اگست 2026 میں دعویٰ کیا تھا کہ بہاولپور صوبے کی بحالی کیلئے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

وزیراعلیٰ کیلئے چار نام

نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں قیادت کے سوال پر بہاولپور کے عوامی حلقوں میں مختلف نام زیرِبحث ہیں۔

مخدوم احمد محمود کا نام ان شخصیات میں شامل ہے جنہیں بعض عوامی حلقے جنوبی پنجاب کی سیاست اور انتظامی معاملات کے تجربے کی بنیاد پر ممکنہ وزیراعلیٰ کیلئے موزوں سمجھتے ہیں۔

اسی طرح طارق بشیر چیمہ بھی بہاولپور کی سیاست میں نمایاں نام ہیں۔ قومی اسمبلی کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق وہ بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی ہیں، جبکہ ان کی سیاسی سرگرمیاں طویل عرصے سے خطے سے وابستہ رہی ہیں۔

پرنس بہاول عباسی کا نام بھی عوامی حلقوں کی جانب سے سامنے لایا جارہا ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بہاولپور کی تاریخی شناخت اور عباسی خاندان کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ان کی نمائندگی اہم ہوسکتی ہے۔

اسی طرح ریاض حسین پیرزادہ کو بھی ممکنہ وزیراعلیٰ کیلئے اہم امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وہ بہاولپور سے رکن قومی اسمبلی ہیں اور خطے کی سیاست میں طویل سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں ان کا تعلق بہاولپور سے درج ہے۔

سیاسی سرگرمیاں بھی جاری

بہاولپور میں سیاسی سطح پر مختلف جماعتوں کے مقامی رہنما بھی انتظامی اور عوامی مسائل کے حوالے سے سرگرم ہیں۔ رواں سال ضلع بہاولپور کی ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی میں بھی ریاض حسین پیرزادہ اور طارق بشیر چیمہ سمیت علاقے کی متعدد سیاسی شخصیات کو شامل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب بہاولپور کی صوبائی حیثیت کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں مکمل یکسانیت نہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض سیاسی رہنماؤں نے بہاولپور صوبے کی بحالی کے ساتھ مختلف انتظامی فارمولوں اور جنوبی پنجاب کی ممکنہ تشکیل پر بھی اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

حتمی فیصلہ پارلیمانی عمل سے ہوگا

بہاولپور کے شہریوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کیلئے سامنے آنے والے چاروں نام فی الحال عوامی تجاویز اور سیاسی حلقوں کی بحث کا حصہ ہیں۔ کسی شخصیت کو باضابطہ طور پر نئے صوبے کا وزیراعلیٰ نامزد نہیں کیا گیا۔

اگر مستقبل میں بہاولپور کو صوبے کا درجہ دینے کیلئے آئینی اور قانونی عمل مکمل ہوتا ہے تو نئی صوبائی اسمبلی کے قیام اور آئینی طریقہ کار کے تحت وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا۔

بہاولپور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مقصد اگر عوام کو بہتر انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے تو بہاولپور کے دیرینہ مطالبے کو بھی سنجیدگی سے زیرِغور لایا جائے اور خطے کی تاریخی و انتظامی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائ

Qaisar Mirza
editor

Related Articles