ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث نے ملتان میں ایک مرتبہ پھر صوبائی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو نمایاں کردیا ہے۔ شہر کے مختلف عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس تشکیل دینے کی پالیسی اختیار کی جاتی ہے تو ملتان کے دیرینہ مطالبے کو بھی سنجیدگی سے زیرِغور لایا جانا چاہیے، جبکہ بہاولپور کی تاریخی صوبائی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ملتان کے شہریوں کے مطابق صوبائی حیثیت کی بحث محض سیاسی مفادات تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ خطے کی تاریخی شناخت، انتظامی ضروریات اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایک بڑے جغرافیائی خطے کے انتظامی معاملات مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس پر غور کیا جاسکتا ہے۔
ملتان کی صوبائی حیثیت کا مطالبہ
ملتان کو الگ صوبائی حیثیت دینے کا مطالبہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں نیا نہیں۔ جنوبی پنجاب میں ایک طرف سرائیکی خطے پر مشتمل نئے صوبے کا مطالبہ طویل عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بہاولپور کی سابق ریاستی و انتظامی حیثیت کی بحالی کی تحریک بھی اپنی الگ تاریخ رکھتی ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق جنوبی پنجاب میں بہاولپور کی سابق انتظامی حدود کی بحالی اور ملتان مرکزیت رکھنے والی سرائیکی صوبے کی تحریک، دونوں رجحانات 1970 کی دہائی میں نمایاں سیاسی صورت اختیار کرچکے تھے۔
ملتان کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام پر سنجیدہ پیش رفت ہوتی ہے تو ملتان کی تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اہمیت کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا جائے۔
ملتان کی صوبائی حیثیت کے مطالبے کے پس منظر میں شہر کی قدیم تاریخ بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ مغلیہ دور میں ملتان ایک بڑے انتظامی خطے کا مرکز رہا۔ سرکاری تاریخِ ملتان کے مطابق مغل دور میں ملتان ایک وسیع صوبے کا صدر مقام تھا، جس کا دائرہ مختلف ادوار میں جنوبی پنجاب کے وسیع علاقوں تک پھیلا ہوا تھا اور بعض اوقات سندھ کے حصے بھی اس انتظامی دائرے میں شامل رہے۔
مغل دور میں ملتان تجارت، زراعت اور علاقائی انتظام کا اہم مرکز بن کر ابھرا۔ شہر کو اس زمانے میں امن و تجارت کے حوالے سے نمایاں مقام حاصل تھا۔ بعد ازاں خطہ افغان، سکھ اور برطانوی ادوار سے گزرا۔ 19ویں صدی میں برطانوی دور کے دوران بھی ملتان ڈویژن جنوبی پنجاب کے ایک بڑے انتظامی خطے کے طور پر موجود رہا۔
اسی تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ملتان کے بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ شہر کی موجودہ انتظامی حیثیت کو اس کے تاریخی کردار سے الگ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ کے لیے تین نام زیرِبحث
ملتان میں ممکنہ نئے صوبے کی قیادت کے حوالے سے بھی سیاسی حلقوں اور شہریوں کے درمیان قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بعض عوامی حلقوں کی جانب سے سابق وزیراعظم اور موجودہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عبد الرحمان خان کانجو کے نام زیرِبحث لائے جارہے ہیں۔
تاہم ان ناموں کو فی الحال کسی مجوزہ صوبے کے باضابطہ وزیراعلیٰ کے امیدوار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نئے صوبے کا قیام آئینی و پارلیمانی عمل سے مشروط ہوگا، جبکہ وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی مستقبل میں وجود میں آنے والی صوبائی اسمبلی کے آئینی طریقہ کار کے تحت ہوگا۔
یوسف رضا گیلانی کا تعلق ملتان سے ہے اور ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز مسلم لیگ سے کیا، بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ ہوئے اور قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور 2008 سے 2012 تک پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے۔ اپریل 2024 سے وہ سینیٹ کے چیئرمین کے منصب پر فائز ہیں۔
گیلانی خاندان کا ملتان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں بھی نمایاں کردار رہا ہے۔ سینیٹ کے ریکارڈ کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے والد سید عالم دار حسین گیلانی تحریکِ پاکستان سے وابستہ رہنے کے ساتھ دستور ساز اسمبلی کے رکن اور بعد ازاں وفاقی وزیر بھی رہے۔
اسی سیاسی پس منظر کی وجہ سے ملتان صوبے کی قیادت سے متعلق بحث میں یوسف رضا گیلانی کا نام مقامی سطح پر قابلِ توجہ سمجھا جاتا ہے۔
شاہ محمود قریشی: جنوبی پنجاب کی سیاست میں اہم کردار
شاہ محمود قریشی بھی ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سیاست دان ہیں۔ وہ مختلف ادوار میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور بعدازاں پاکستان تحریکِ انصاف میں شامل ہوئے۔ وہ 2008 سے 2011 اور پھر 2018 سے 2022 تک وفاقی وزیر خارجہ کے منصب پر فائز رہے۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ میں بھی ان کا تعلق ملتان کے حلقے سے درج ہے۔
جنوبی پنجاب کی سیاست میں قریشی خاندان کی طویل سیاسی موجودگی اور شاہ محمود قریشی کا وفاقی سطح پر تجربہ انہیں خطے کی انتظامی و سیاسی بحث میں ایک نمایاں نام بناتا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ کے منصب کے لیے ان کا نام فی الحال صرف عوامی و سیاسی قیاس آرائیوں تک محدود ہے۔
عبد الرحمان خان کانجو: مسلم لیگ (ن) کا جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والا نام
عبد الرحمان خان کانجو کا تعلق ضلع لودھراں سے ہے اور وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیاسی رہنما ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور 2017 سے 2018 کے دوران وفاقی کابینہ میں وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کے منصب پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ قومی اسمبلی کے موجودہ ریکارڈ میں بھی انہیں حلقہ این اے-154 لودھراں-I سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کا رکن درج کیا گیا ہے۔
کانجو خاندان کا تعلق بھی جنوبی پنجاب کی سیاست سے گہرا ہے۔ ان کے والد صدیق خان کانجو وفاقی وزیر خارجہ سمیت اہم سیاسی ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔
ملتان کے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حیثیت ملنے کی صورت میں صحت، تعلیم، روزگار، انفراسٹرکچر اور دیگر عوامی خدمات کے فیصلے مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق جنوبی پنجاب کے بڑے شہروں اور دور دراز اضلاع کے مسائل کا حل ایک ایسے انتظامی نظام میں تلاش کیا جانا چاہیے جو مقامی ضروریات کو ترجیح دے۔
تاہم انتظامی یونٹ کے قیام کے حامیوں اور مخالفین دونوں کے لیے سب سے اہم سوال اس نئے ڈھانچے کی مالی اور انتظامی پائیداری کا ہوگا۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے صرف سیاسی اتفاقِ رائے کافی نہیں ہوگا بلکہ آئینی، قانونی، مالی اور پارلیمانی تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
ملتان کے وزیراعلیٰ کے لیے سامنے آنے والے نام اس وقت عوامی تجاویز اور سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔ کسی شخصیت کو باضابطہ طور پر کسی نئے صوبے کا وزیراعلیٰ نامزد نہیں کیا گیا۔
اگر مستقبل میں ملتان یا جنوبی پنجاب کے کسی نئے صوبے کے قیام پر اتفاق ہوتا ہے تو اس کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔ اس کے بعد نئی صوبائی اسمبلی کے قیام اور اس اسمبلی میں اکثریت رکھنے والے ارکان کے ذریعے وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں آئے گا۔
ملتان کے شہریوں کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا بنیادی مقصد اگر عوام کو بہتر حکمرانی اور سہولیات کی فراہمی ہے تو ملتان کے دیرینہ مطالبے کو بھی اسی معیار پر پرکھا جائے۔ ان کے مطابق فیصلہ سیاسی وابستگیوں کے بجائے خطے کی تاریخی حیثیت، انتظامی ضرورت، عوامی خواہش اور مستقبل کی ترقیاتی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔