نمائندہ آزاد ڈیجیٹل پر حملے کی شکایت کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے منہ پھیر لیا۔ کراچی میں وزیراعلیٰ کے قافلے کے دوران کارکنان آپس میں لڑے جبکہ صحافیوں سے کیمرا چھیننے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر صحافی نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ ’’یہ تربیت ہے آپ کے کارکنان کی؟‘‘
تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی کراچی کے دورے پر تھے جہاں ان کے قافلے کے ہمراہ موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے رویے پر صحافی نے وزیراعلیٰ سے سوالات کیے۔
رپورٹر کے مطابق قافلے کے دوران بعض کارکنان آپس میں لڑے جبکہ دورے کی کوریج کرنے والے صحافیوں سے کیمرے چھیننے کی کوشش کی گئی۔ صحافی نے سہیل آفریدی سے براہِ راست سوال کیا کہ کیا کارکنان کا یہ رویہ پارٹی میں دی جانے والی تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹر نے سکھر میں آزاد ڈیجیٹل کے نمائندے وقاص سلیم پر حملے کی شکایت بھی وزیراعلیٰ کے سامنے رکھی۔
وقاص سلیم کے مطابق شکارپور میں سہیل آفریدی کے قافلے کے پہنچنے پر تحریک انصاف کے کارکنان آپس میں لڑ رہے تھے۔ انہوں نے واقعے کی ویڈیو بنانا شروع کی تو کارکنان نے ان پر حملہ کردیا۔
حملے کے دوران ان کا موبائل گر کر ٹوٹ گیا۔ وقاص سلیم نے واقعے کی شکایت کے حوالے سے وزیراعلیٰ کے پروٹوکول افسر سے رابطہ کیا، تاہم ان کے مطابق پروٹوکول افسر نے گفتگو کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
شکایت پر سہیل آفریدی نے جواب دینے کے بجائے منہ پھیر لیا۔ صحافی نے میڈیا ورکرز کے ساتھ ہونے والے سلوک اور پارٹی کارکنان کے رویے پر وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی۔ سہیل آفریدی کے کراچی کے دورے کے دوران سرکاری پروٹوکول کے استعمال پر بھی سوالات اٹھے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سندھ سے گزرنے والے قافلے میں سرکاری گاڑیاں شامل تھیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے ہمراہ آنے والے پی ٹی آئی کارکنان شکارپور سے واپس ہوگئے۔ اس کے بعد سہیل آفریدی نے سرکاری سکیورٹی اور پروٹوکول میں اپنا سفر جاری رکھا۔ اس صورتحال کے بعد وزیراعلیٰ کے لیے کیے گئے سرکاری انتظامات اور دورے کے دوران پارٹی کارکنان اور صحافیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے حوالے سے تنقید سامنے آئی۔
سہیل آفریدی کا کراچی کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خیبر پختونخوا کو عسکریت پسندی میں اضافے، بجلی کی قلت اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تنقید سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ صوبہ سکیورٹی خدشات سے دوچار ہے، جبکہ بجلی کی بندش اور عوامی انتظامیہ سے متعلق شکایات نے بھی صوبائی حکومت پر دباؤ بڑھایا ہے۔