گوگل ڈیپ مائنڈ اور گوگل ریسرچ نے مصنوعی ذہانت کا حامل دنیا کا جدید اور درست ترین موسمیاتی ماڈل ’ویدر نیکسٹ 3‘ متعارف کرا دیا ہے۔ یہ نیا ماڈل پرانے سسٹمز کے برعکس لائیو سیٹلائٹ اور ویدر اسٹیشنز کے ڈیٹا کی مدد سے ہر گھنٹے بعد پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو سابقہ ماڈلز کی نسبت 5 گنا زیادہ واضح ہے۔
’برائٹ بینڈ‘ کی حالیہ آزادانہ جانچ کے مطابق ’ویدر نیکسٹ ‘اس وقت دستیاب دنیا کا سب سے مستند اور درست گلوبل ویدر ماڈل ہے۔
پرانے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز جو عموماً عددی موسمیاتی ڈیٹا پر انحصار کرتے تھے، ان کے برعکس یہ نیا سسٹم براہ راست زمینی اور سیٹلائٹ مشاہدات سے سیکھتا ہے۔
نیا ماڈل 5 کلومیٹر کی شاندار ریزولوشن پر درجہ حرارت اور نمی جیسی اہم موسمیاتی تبدیلیوں کی پیشگوئی کر سکتا ہے۔ دیگر زمینی متغیرات کے لیے 10 کلومیٹر اور ہوا کی رفتار جانچنے کے لیے 25 کلومیٹر کی ریزولوشن استعمال کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راستہ بھی، کھانا بھی، گوگل میپس کا نیا فیچر متعارف
’گوگل‘ کے مطابق یہ نظام ’ویدر نیکسٹ 2‘ کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ شفاف ہے جو کہ 6 گھنٹے بعد 25 کلومیٹر کے گرڈ پر ڈیٹا فراہم کرتا تھا۔
بارش، برفباری اور قابلِ تجدید توانائی کے لیے خصوصی فیچرز
نئے ماڈل میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی کو خاص طور پر بہتر بنایا گیا ہے۔ یہ سسٹم ’ناسا‘کے ’آئی ایم ای آر جی‘ اور اپنے ریڈار ڈیٹا پر تربیت یافتہ ہے۔
جانچ کے دوران اس نے درمیانی مدت کی پیشگوئیوں میں 60 فیصد تک اور ابتدائی پیشگوئیوں میں 30 فیصد تک بہتری دکھائی ہے۔
مزید برآں، ’ویدر نیکسٹ 3‘ کو خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ 100 میٹر کی بلندی پر ہوا کی رفتار (جو ونڈ ٹربائنز کی اونچائی ہوتی ہے) اور شمسی توانائی کے پراجیکٹس کے لیے بادلوں کی کثافت اور سورج کی روشنی کی درست پیمائش کر سکتا ہے۔
دستیابی اور انتباہ
’گوگل‘ نے اس ماڈل کا ڈیٹا محققین، ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کے لیے ’بگ کیوری‘، ’ارتھ انجن‘ اور ’گوگل کلاؤڈ سٹوریج‘ کے ذریعے دستیاب کر دیا ہے۔ آج سے یہ سسٹم ’گوگل سرچ‘، ’جیمنائی ایپ‘ اور ’گوگل میپس‘ پر بھی کام کرنا شروع کر دے گا جس سے طویل مدتی پیشگوئیوں میں 50 فیصد تک بہتری آئے گی۔
مزید پڑھیں:گوگل کے بعد ایپل کی پاکستان آمد؟ امریکی قونصل جنرل کا اہم بیان
تاہم، کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ موسم فطری طور پر غیر یقینی ہوتا ہے، لہٰذا ہنگامی حالات اور آفات کی سرکاری وارننگز کے لیے عوام مقامی محکمہ موسمیات پر ہی انحصار کریں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں اچانک سیلاب، طوفان اور شدید بارشوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ روایتی موسمیاتی سسٹمز سپر کمپیوٹرز پر چلتے ہیں جن میں ڈیٹا پروسیسنگ میں 6 گھنٹے تک کی تاخیر ہو جاتی ہے، جس سے اچانک بدلتے موسم کا بروقت پتا لگانا مشکل ہوتا تھا۔
بالخصوص لاطینی امریکا، افریقہ اور ایشیا پیسیفک کے خطوں میں جہاں مہنگے روایتی ماڈلز کا استعمال محدود تھا، وہاں سستے اور فوری پیشگوئی کرنے والے ماڈلز کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔


