پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، مکہ معاہدے پر اہم ترین پیشرفت

پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، مکہ معاہدے پر اہم ترین پیشرفت

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے میں مکہ ڈیفنس الائنس کے افتتاحی اجلاس کے فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا۔

دوسری جانب مصری وزیر خارجہ نے بھی اسحاق ڈار کو دورہ مصر کی دعوت دی ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان اتوار کو ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

اس گفتگو میں علاقائی و بین الاقوامی پیش رفت اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئے۔

دونوں رہنماؤں نے استنبول میں منعقدہ مکہ ڈیفنس الائنس کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں طے پانے والے معاملات کے فالو اپ پر بات چیت کی اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ یہ رابطہ استنبول اجلاس کے محض ایک ہفتے بعد ہوا ہے۔

’مکہ ڈیفنس الائنس کی تفصیلات اور تنظیمی ڈھانچہ‘

استنبول میں ہونے والے افتتاحی اجلاس میں تینوں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس میں مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے معاہدے کے تحت تعاون کو مزید منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:مکہ معاہدہ، پاکستان، ترکیہ، سعودیہ کی آج بڑی بیٹھک ، بڑا پلان کیا ہے؟

اجلاس میں یہ اہم فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس اتحاد کا سیکرٹریٹ ابتدائی طور پر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا، جبکہ اس کی سربراہی ابتدائی 3 سال کے لیے پاکستان کرے گا۔

پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اتحاد کے دروازے خطے کے ہر اس ملک کے لیے کھلے ہیں جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنے کے لیے تیار ہو۔

مصری وزیر خارجہ کی جانب سے اہم دعوت

اسی روز ایک اور اہم سفارتی پیشرفت میں، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور دفتر خارجہ کے مطابق انہیں اپنی سہولت کے مطابق جلد مصر کا دوطرفہ دورہ کرنے کی دعوت دی۔

گفتگو کے دوران پاکستان اور مصر کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کے امور پر مسلسل رابطے میں رہنے کے عزم کا اعادہ کیا اور رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سائیڈ لائن ملاقات پر بھی اتفاق کیا۔

آر فور گروپ اور دوطرفہ عسکری تعاون

پاکستان اور مصر چار ملکی علاقائی اتحاد ’آر فور گروپ‘ کا حصہ ہیں، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔

یہ گروپ علاقائی سلامتی پر مرکوز ہے اور رواں سال مارچ میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے دوران ابھر کر سامنے آیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں مصری وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا تھا۔

اس دورے کے دوران انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں اہم ملاقات کی تھی، جس میں دفاعی و سیکیورٹی تعاون، عسکری تبادلوں اور علاقائی امن پر بات چیت کی گئی تھی۔ مصری وزیر خارجہ نے اس وقت صدر آصف علی زرداری سے بھی لاقات کی تھی۔

مکہ ڈیفنس الائنس کی اہمیت

مکہ ڈیفنس الائنس پر رواں سال 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے۔ اس سہ فریقی معاہدے پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے الصفا پیلس میں ہونے والی سمٹ کے دوران دستخط کیے تھے۔

اس مشترکہ دفاعی معاہدے کا سب سے اہم اور طاقتور نکتہ یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر ہونے والے حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے پہلا باقاعدہ اجلاس 31 اگست کو ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا۔ حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر اس طرح کے عسکری اتحاد کی تشکیل کو ایک ناگزیر ضرورت سمجھا جا رہا تھا۔

پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں کلیدی کردار

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت مشرق وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی میں ایک متحرک اور کلیدی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مکہ ڈیفنس الائنس کی تشکیل اور اس کے سیکرٹریٹ کی سربراہی مسلسل 3 سال کے لیے پاکستان کے سپرد کیا جانا، پاکستانی عسکری اور سفارتی صلاحیتوں پر سعودی عرب اور ترکیہ جیسے بڑے اسلامی ممالک کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر ہے۔

نیٹو کی طرز پر ’ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘ کا اصول اس اتحاد کو اسلامی دنیا کی سب سے مؤثر اور طاقتور دفاعی چھتری میں تبدیل کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ،اتحادمیں مزید ممالک کی شمولیت کافیصلہ طے شدہ مینڈیٹ اور شرائط کے مطابق ہو گا،خواجہ آصف

دوسری جانب، مصر کے ساتھ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اور ’آر فور گروپ‘ کے تحت بڑھتے ہوئے روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان محض روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا مضبوط اور مستحکم بلاک تشکیل دینے میں پیش پیش ہے جو عالمی طاقتوں کی کشمکش کے دوران خطے کے وسیع تر مفادات کا تحفظ کر سکے۔

ان پے در پے اور مؤثر سفارتی رابطوں سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے اقتصادی اور سیکیورٹی کے محاذوں پر نئے اور وسیع امکانات پیدا ہوں گے، جس سے ملک کا عالمی سطح پر وقار مزید بلند ہوگا۔

Related Articles