یہ گیمز ملک کے 3 بڑے حصوں یعنی اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منعقد ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل کی مشاورت سے گیمز کی حتمی تاریخوں کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران ٹورنامنٹ کے لیے ایک نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری کے ساتھ ساتھ اسٹیئرنگ، آرگنائزنگ اور صوبائی کمیٹیوں کی تشکیل کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کو باہمی رابطہ کاری مزید بہتر بنانے، مقررہ وقت پر کھیلوں کے تمام مقامات کی تعمیر و مرمت مکمل کرنے اور معیار کو بلند ترین سطح پر رکھنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
شامل ممالک اور کھیلوں کے مقابلے
اس عالمی معیار کے سپورٹس میلے میں خطے کے 8 ممالک کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔ شریک ممالک میں میزبان پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال اور سری لنکا شامل ہیں۔
ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر 28 مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوں گے، جن میں ایتھلیٹکس، تیراکی، ہاکی، فٹ بال، والی بال، باکسنگ اور دیگر چھوٹے ٹیم اسپورٹس شامل ہیں۔
ساؤتھ ایشین فیڈریشن گیمز کا یہ کواڈریلینل (ہر 4 سال بعد ہونے والا) مقابلہ باقاعدگی سے 1984 سے ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جا رہا ہے۔
اس کا آخری ایڈیشن 2019 میں نیپال میں منعقد ہوا تھا جس میں بھارت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔
تاہم 14ویں ایڈیشن جو کہ اصل میں 2021 میں ہونا تھا، پہلے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث ملتوی ہوا اور بعد ازاں جنوری 2026 میں بھی اس میں مزید تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اب جاکر اس کی نئی اور حتمی تاریخیں طے کی گئی ہیں۔
پاکستان میں 6000 سے زیادہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی شرکت کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی کھیلوں کا انعقاد ایک بہت بڑا لاجسٹک اور سفارتی چیلنج ہے، لیکن ساتھ ہی یہ ملک کے لیے ایک شاندار موقع بھی ہے۔
طویل عرصے کے بعد پاکستان میں اس سطح کے میگا اسپورٹس ایونٹ کا انعقاد دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر اور کھیلوں کے لیے سازگار ماحول موجود ہے۔
تاہم کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا متعلقہ ادارے طے شدہ مدت کے اندر بنیادی ڈھانچے، اسٹیڈیمز کی تعمیر اور سیکیورٹی کے انتظامات کو فول پروف بنا پاتے ہیں یا نہیں۔
اگر حکومت اور انتظامیہ اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ان گیمز کو کامیاب بناتی ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان کے سافٹ امیج کو اجاگر کرے گا بلکہ علاقائی کھیلوں کے فروغ اور سیاحت کے شعبے کی ترقی میں بھی ایک میل کا پتھر ثابت ہوگا۔