سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن میں تبدیلیوں کا فیصلہ

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن میں تبدیلیوں کا فیصلہ

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کا فیصلہ کرتے ہوئے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے اس فیصلے کے تحت ملازمین کو ایڈہاک ریلیف، ڈسپیریٹی الاؤنس اور پنشن میں اضافے کا بھرپور فائدہ ملے گا۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کی انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کی طرز پر اپنے ملازمین کی مالی حالت بہتر بنانے کے لیے اہم نوعیت کے فیصلے کیے ہیں۔

 جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یکم جولائی 2026 سے پیسکو ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاؤنس دینے کی منظوری دی جا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے بجلی کے بلوں کی آخری تاریخ میں توسیع

اس کے علاوہ گریڈ 1 سے 22 تک کے تمام ملازمین کے لیے 15 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس مقرر کیا گیا ہے، جس کا حساب 30 جون 2022 کی بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔

پیسکو ملازمین پر الاؤنسز کے حوالے سے وفاقی حکومت کی تمام شرائط من و عن لاگو ہوں گی۔

کنوینس الاؤنس اور معذور ملازمین کے لیے خصوصی پیکیج

اعلامیے کے مطابق پیسکو ملازمین کے روایتی کنوینس الاؤنس کی شرح میں بھی 50 فیصد اضافے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے روزمرہ آنے جانے کے اخراجات میں ملازمین کو بڑی ریلیف ملے گی۔

اس کے علاوہ ادارے نے خصوصی افراد کا خاص خیال رکھتے ہوئے معذور پیسکو ملازمین کے خصوصی کنوینس الاؤنس میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے تحت اسے 6000 روپے سے بڑھا کر 10000 روپے کر دیا گیا ہے۔

ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن میں اضافہ

صرف حاضر سروس ملازمین ہی نہیں بلکہ ادارے کی خدمت کرنے والے ریٹائرڈ افراد کو بھی اس فیصلے میں شامل کیا گیا ہے۔

پیسکو کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی ہے، جس کا اطلاق بھی یکم جولائی 2026 سے ہی نافذ العمل ہوگا۔

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی کی بلند شرح اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے فکسڈ اور تنخواہ دار طبقے کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:گیپکو کی نجکاری، 11 ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کردی

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرح ملک بھر کے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے ملازمین مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں افراطِ زر کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

پیسکو کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملازمین اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومتی پیکجز کی طرز پر مراعات کے منتظر تھے۔

اس فیصلے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ پیسکو کے ہزاروں ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے بلاشبہ ایک خوش آئند اور معاشی سکون فراہم کرنے والا قدم ہے۔

تاہم دوسری طرف اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی پاور ڈسٹربیوشن کمپنیاں پہلے ہی مالی مشکلات، لائن لاسز اور گردشی قرضوں کے سنگین بحران کا شکار ہیں۔

ایسے وقت میں جب بجلی کے محکمے مالی خسارے میں چل رہے ہوں، تنخواہوں اور الاؤنسز میں اس قسم کے بڑے اضافے سے اداروں کے انتظامی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پیسکو اپنی کارکردگی، ریکوری کے نظام اور لائن لاسز کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دے تاکہ ملازمین کو ملنے والے اس جائز ریلیف کا بوجھ ادارے کی مالی سجاورت کو متاثر نہ کرے۔

Related Articles