سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں 3 دن کے وقفے پر اتفاق

سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں 3 دن کے وقفے پر اتفاق

روس اور یوکرین کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران امریکی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں فضائی حملوں میں 3 روز کے عارضی وقفے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچیوں سے کریملن میں انتہائی اہم ملاقات کے بعد یہ حکم جاری کیا۔ امریکی وفد آج کیف کا دورہ کر کے روسی مؤقف سے یوکرینی حکام کو آگاہ کرے گا۔

روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے جاری خونریز جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں میں ایک بڑی بریک تھرو سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے روس اور یوکرین کے صدور سے ٹیلیفونک رابطے، یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے روسی دارالحکومت ماسکو کا دورہ کر کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے کریملن میں ملاقات کی۔

اس انتہائی اہم اور حساس بیٹھک کے بعد روس نے یوکرین کے خلاف 3 روز کے لیے تمام فضائی حملے روکنے کا باقاعدہ حکم دے دیا ہے۔

کریملن میں 3 گھنٹے طویل تعمیری مذاکرات

روسی صدارتی دفتر (کریملن) کے مطابق دونوں امریکی ایلچیوں اور روسی صدر کے درمیان یہ اہم ملاقات تقریباً 3 گھنٹے تک جاری رہی۔

اس طویل بیٹھک کے دوران روس یوکرین جنگ کے پائیدار خاتمے، ممکنہ عارضی و مستقل جنگ بندی اور آئندہ کے روڈ میپ سمیت متعدد تزویراتی امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔

کریملن کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ مذاکرات انتہائی بامعنی اور تعمیری ماحول میں ہوئے، جہاں دونوں فریقین نے جنگ بندی کے ممکنہ حتمی حل کے لیے کئی عملی تجاویز اور خاکے مرتب کیے۔

صدارتی دفتر کے مطابق امریکی نمائندوں نے صدر پیوٹن کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے نقطہ نظر اور شرائط کو یوکرینی قیادت کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔

کیف کا متوقع دورہ اور امریکی میڈیا کے دعوے

دوسری جانب امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو میں ہونے والی اس پیش رفت کے بعد امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج ہی یوکرین روانہ ہو رہے ہیں۔

کیف میں اپنے قیام کے دوران وہ یوکرینی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں کریملن کے ساتھ طے پانے والی تجاویز اور روسی صدر کا مؤقف باقاعدہ طور پر پیش کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق یوکرینی حکام کا ردِعمل ہی اس عارضی وقفے کے بعد کسی حتمی اور پائیدار امن معاہدے کا مستقبل طے کرے گا۔

مزید پڑھیں:روس اور یوکرین جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان کیجانب سے مذاکرات پر زور

روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ کئی برسوں سے جاری تنازع نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت اور ڈھانچے کو تباہ کیا ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے ہیں۔

عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کا بحران پیدا ہوا جبکہ ہزاروں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے واشنگٹن نے اس جنگ کو ختم کرانے کے لیے جارحانہ سفارت کاری کا آغاز کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے قریبی اور بااعتماد ایلچیوں کو ماسکو اور کیف بھیجنے کا مقصد دونوں جنگجو فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر کسی درمیانی راستے پر متفق کرنا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں 3 روز کا وقفہ بظاہر ایک چھوٹا قدم لگ سکتا ہے، لیکن موجودہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے ایک انتہائی اہم ابتدائی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔

کریملن میں 3 گھنٹے طویل گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں جانب اب جنگ کے طوالت پکڑنے سے پیدا ہونے والے جمود کو توڑنے کا سنجیدہ احساس موجود ہے۔ تاہم، اصل چیلنج یہ ہوگا کہ آیا امریکہ کا یہ سفارتی مشن یوکرین کی قیادت کو ان شرائط پر راضی کر پائے گا جو ماسکو نے سامنے رکھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز سے اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ طے پا گیا

 3 روز کے اس عارضی وقفے کو دائمی جنگ بندی میں تبدیل کرنے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک اپنے بنیادی مطالباتی مؤقف میں کس حد تک لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر کیف کی طرف سے مثبت اشارے ملتے ہیں، تو یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Related Articles