اوپیک پلس نے ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات میں خلل اور مارکیٹ پر کم ہوتے اثرات کے پیش نظر اکتوبر کے لیے اپنی تیل کی پیداوار کی پالیسی کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اوپیک پلس اتوار کو ہونے والے اہم اجلاس میں اکتوبر کے لیے تیل کی پیداوار کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ گروپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آئندہ کے اقدامات اٹھانے سے پہلے نئے کوٹاز پر باقاعدہ اتفاق رائے پیدا کرے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب ایران جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے اوپیک پلس کا قیمتوں اور مارکیٹ کے شیئر پر اثر خاصا محدود ہو چکا ہے۔ ماضی کے برعکس اب اس گروپ کے سپلائی سے متعلق فیصلے مارکیٹ پر زیادہ اثر نہیں ڈال پا رہے۔
سابقہ پیداواری کٹس اور سال 2027 کے نئے اہداف
یاد رہے کہ اگست میں اوپیک پلس نے ستمبر کے لیے پیداوار میں اضافے پر اتفاق کیا تھا، جس سے 2023 میں طے پانے والے 1.65 ملین بیرل یومیہ کے فراہمی کے کٹ کا مرحلہ وار خاتمہ مکمل ہو گیا تھا۔
تاہم جنگی صورتحال کی وجہ سے آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز اور روس سمیت اس کے تمام اتحادیوں پر مشتمل یہ گروپ اب بھی اپنے مقررہ اہداف سے بہت کم پیداوار کر رہا ہے۔
اوپیک پلس کے پاس پیداواری کٹس کی ایک اور تہہ بھی موجود ہے جو 21 ممالک پر مشتمل اس گروپ کے بیشتر اراکین پر سن 2026 کے آخر تک لاگو رہے گی۔
اس سے پہلے کہ گروپ ان کٹس کو سمیٹ کر پیداوار کو دوبارہ مارکیٹ میں لائے، اسے تمام اراکین کی تیل پیدا کرنے کی اصل صلاحیت کا جائزہ لے کر سن 2027 کے لیے پیداواری بیس لائنز طے کرنا ہوں گی، جو آگے چل کر نئے کوٹاز کی بنیاد بنتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ذرائع کے مطابق یہ بحث سن 2026 کے آخر میں متوقع ہے اور چوتھی سہ ماہی کے لیے فی الحال پیداوار میں اضافے کو روک دیا گیا ہے۔
اوپیک پلس (اوپیک اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک) عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لیے مشترکہ پیداواری حکمت عملی طے کرتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران عالمی سطح پر معاشی چیلنجز، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بالخصوص مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔
سپلائی کے کٹس اور ان کے مرحلہ وار خاتمے کا بنیادی مقصد قیمتوں میں استحکام لانا تھا، لیکن حالیہ جنگی بحران نے روایتی سپلائی روٹس کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے دنیا بھر میں توانائی کی سلامتی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
موجودہ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو اوپیک پلس کا یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی تعطل نہیں بلکہ زمینی حقائق کا اعتراف ہے۔
جب آبنائے ہرمز جیسے حساس اور اہم سمندری راستے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہوں اور سپلائی چینز رکاوٹوں کا شکار ہوں، تو پیداواری کوٹاز میں جلد بازی پر مبنی ردوبدل مارکیٹ کو سنبھالنے کے بجائے مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔
گروپ کے لیے یہ امر لمحہ فکریہ ہے کہ روایتی طور پر اپنے فیصلوں سے دنیا بھر کی معیشت میں ہلچل مچانے والی مارکیٹ اب جنگی حالات کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔
سن 2027 کے لیے نئے بیس لائن کوٹاز کا تعین اور اراکین کی اصل پیداواری صلاحیت کا تخمینہ ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہوگا، کیونکہ موجودہ کشیدگی کے دوران کئی ممالک اپنی مکمل صلاحیت پر کام کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر اس نازک موڑ پر ہوشیاری سے فیصلے نہ کیے گئے، تو عالمی توانائی منڈی میں طویل مدتی بحران کا خطرہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔