زمین اور چاند کے درمیان خلا میں جنگ کا امکان، اہم تحقیق سامنے آگئی

زمین اور چاند کے درمیان خلا میں جنگ کا امکان،  اہم تحقیق سامنے آگئی

چینی ایرو اسپیس محققین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کے تنازعات زمین اور چاند کے درمیان موجود خلائی خطے، جسے سیسلونر اسپیس کہا جاتا ہے، تک پھیل سکتے ہیں۔

جرنل آف کمانڈ اینڈ کنٹرول میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ممکنہ خلائی تنازعات کے مختلف منظرناموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق مستقبل میں حریف خلائی جہاز ایک دوسرے کا تعاقب کرنے، راستہ تبدیل کرنے، دفاعی نظاموں سے بچنے یا اہم خلائی راستوں کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل نے جی میل، ڈاکس اور کیپ میں اے آئی وائس فیچرز متعارف کرا دیے

چاند کی کشش ثقل بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے

محققین کے مطابق زمین اور چاند کی پیچیدہ کشش ثقل کا ماحول خلائی جہازوں کی نقل و حرکت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی خلائی جہاز ایسے مقام پر طویل عرصے تک موجود رہ سکتا ہے جہاں سے وہ زمین کے قریب موجود کسی ہدف کی جانب اچانک کارروائی کی پوزیشن حاصل کرسکے۔

تحقیق میں چوک پوائنٹس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ایسے اہم مقامات ہیں جہاں خلائی راستے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور بعض راستوں پر کم ایندھن کے ساتھ سفر ممکن ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیچڑ کے ایک کاٹنے سے نیا وائرس دریافت، انسانوں کے لیے کتنا خطرناک ہے

کسی ملک کی جانب سے ایسے مقامات پر موجودگی حریف کے خلائی راستے میں رکاوٹ ڈالنے، اسے راستہ تبدیل کرنے یا کسی مشن میں تاخیر پر مجبور کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، وہ بھی براہ راست تصادم کے بغیر۔

خلا تک رسائی بھی اہم مسئلہ بن سکتی ہے

محققین کے مطابق مستقبل میں سیسلونر اسپیس کی اہمیت صرف کسی ایک خلائی جہاز یا مخصوص راستے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلا تک رسائی اور اہم خلائی راستوں پر اثر و رسوخ بھی اہم معاملہ بن سکتا ہے۔تحقیق کے سربراہ ڈینگ ژاؤہوئی کے مطابق سیسلونر اسپیس کو مخالفین کے خلاف ایک رکاوٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ تحقیق چین کی ژیان نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے کی ہے۔

editor

Related Articles