پاکستان نظریاتی پارٹی نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے آج سے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔ چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی شہیر حیدر سیالوی نے حضرو، اٹک اور حسن ابدال میں پریس کانفرنسز اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں اور عوام کو ان کا حق ان کی دہلیز پر ملنا چاہیے۔
شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ ان کی جماعت نے قیام کے وقت ہی مزید انتظامی ڈویژنز کی ضرورت پر بات کی تھی۔ ان کے مطابق اٹک کے دور دراز علاقوں کے عوام کو اپنے مسائل کے لیے لاہور تک طویل سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ ضلع کی پانچوں تحصیلوں میں، شہر کے علاوہ، کوئی یونیورسٹی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور تحصیل ہیڈکوارٹرز سے مریضوں کو مزید علاج کے لیے راولپنڈی ریفر کیا جاتا ہے۔ تعلیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے سرکاری سکولوں میں نویں جماعت کے امتحانات میں 72 فیصد بچے فیل ہوئے، جبکہ راولپنڈی ڈویژن کے 184 اور ضلع اٹک کے 35 سرکاری سکولوں میں ایک بھی بچہ پاس نہیں ہوا۔
انہوں نے حکومت پر عملی اقدامات کے بجائے تشہیری سرگرمیوں پر توجہ دینے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی ملک کا ہنرمند نوجوان روزگار کے لیے بیرون ملک جانے پر مجبور ہے۔
چیئرمین پاکستان نظریاتی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ اگر اسلام آباد کو صوبہ یا آزاد انتظامی یونٹ بنایا جاتا ہے تو اٹک کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا جائے، بصورت دیگر اٹک، تلہ گنگ، چکوال اور میانوالی پر مشتمل الگ صوبہ بنایا جائے، جس کا دارالحکومت اٹک، جنڈ یا پنڈی گھیب میں رکھا جائے۔
انہوں نے سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے چاہئیں۔ شہیر حیدر سیالوی نے کہا کہ ملک میں لسانی اور علاقائی تفریق کے بجائے پاکستانی قوم کی حیثیت سے اتحاد کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نئے صوبوں کے مطالبے کے لیے ملک گیر تحریک چلائے گی۔