وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کو آگے بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبے لسانیت یا قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی ضروریات اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیے جانے چاہئیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب صوبہ مسلم لیگ ن کے منشور کا حصہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی بات کوسرائیکستان کے مطالبے کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے، کیونکہ جنوبی پنجاب صوبے کا معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے اندر نئے صوبوں کے معاملے پر بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ اس موضوع پر قومی اسمبلی میں باقاعدہ بحث کا آغاز ہو،ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق مختلف تجاویز موجود ہیں جن پر پارلیمنٹ کے فورم پر کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی نئے انتظامی یونٹس بنانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں تو ان تجاویز کو بھی قومی سطح پر زیر بحث لانے میں کوئی حرج نہیں،ایسے معاملات کو سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور بہتر طرز حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر توانائی نے کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق فیصلوں میں وہاں کے شہریوں کی رائے کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام سے شفاف طریقے سے معلوم کیا جائے کہ وہ کس طرز کے انتظامی نظام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔
اویس لغاری نے اس بات پر زور دیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام جیسے اہم معاملات پر قومی سطح پر سنجیدہ اور شفاف بحث ضروری ہے تاکہ کسی بھی فیصلے میں عوامی مفاد اور انتظامی ضرورت کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔