پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز بورڈ کے اجلاس میں پیش کردی گئی، جبکہ قومی ایئرلائن کے بیڑے میں مزید طیارے شامل کرنے اور گراؤنڈ جہازوں کو دوبارہ آپریشنل کرنے کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
چیئرمین پی آئی اے بورڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) انوار علی حیدر کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں قومی ایئرلائن کی مجموعی کارکردگی، آپریشنز اور مستقبل میں بیڑے کی توسیع سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے۔
اجلاس کے دوران چیف فنانشل آفیسر نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے تیار کردہ تجویز بورڈ کے سامنے پیش کی۔ ذرائع کے مطابق بورڈ نے اس معاملے کا جائزہ لیا، جبکہ ملازمین کے لیے دیگر متعلقہ امور بھی زیر غور آئے۔
پی آئی اے میں نئے فضائی میزبانوں یعنی کیبن کریو کی بھرتی کے معاملے پر بھی اجلاس میں غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نئے کیبن کریو کے لیے ڈریس کی منظوری سے متعلق تجویز بھی بورڈ کے سامنے رکھی گئی۔
اجلاس میں پی آئی اے کے لیے 2 نئے بوئنگ طیارے ویٹ لیز پر حاصل کرنے کے منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق دونوں طیاروں کو لیز پر لینے سے متعلق معاملات کو جلد حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔
بورڈ اجلاس میں گراؤنڈ ہونے والے بوئنگ طیاروں کو ضروری مرمت اور مینٹیننس کے بعد دوبارہ فضائی بیڑے کا حصہ بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
حکام کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ گراؤنڈ طیاروں کی بحالی کے لیے درکار اسپیئر پارٹس کی خریداری کا عمل جاری ہے، جس کے بعد جہازوں کو مرحلہ وار دوبارہ آپریشنل کیا جائے گا۔
دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے قومی ایئرلائن کو ایک ارب روپے کے فنڈز بھی جاری کیے گئے ہیں،ذرائع کے مطابق فنڈز دستیاب ہونے کے بعد پی آئی اے نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے فیصلے کے بعد مختلف بینکوں کی جانب سے بھی قومی ایئرلائن کے لیے قرض کی منظوری دی گئی ہے، جس سے ادارے کی مالی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
