وزارت خزانہ نے پنشنرز کو طویل کاغذی کارروائی سے نجات دلاتے ہوئے نئے قواعد جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت ادائیگی صرف ’ڈیجیٹل پنشن نظام‘ سے کی جائے گی۔
اب پنشن براہ راست بینک اکاؤنٹس میں منتقل ہوگی، جس کے لیے پرانا لائف سرٹیفکیٹ ختم کر کے ہر 6 ماہ بعد ’نادرا‘ سے ڈیجیٹل تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق وزارت خزانہ نے بزرگ شہریوں کی سہولت کے لیے پرانے نظام کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔ اب پنشنرز کو بینکوں کی قطاروں میں کھڑے ہو کر بائیو میٹرک کروانے یا لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی قطعی ضرورت نہیں ہوگی۔
سرکاری دستاویز کے مطابق بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پنشنرز سے کوئی اضافی کاغذی دستاویز طلب نہیں کریں گے۔
’نادرا‘ کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق کا آسان طریقہ کار
نئے قواعد کے تحت پنشنرز کو ہر 6 ماہ بعد اپنی تصدیق کرانا ہوگی، جو اب ’نادرا پاک آئی ڈی ایپ‘ کے ذریعے باآسانی کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پنشنرز کیلئے بڑی خوشخبری،نادرا کا پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت کرنے کا اعلان
جو افراد سمارٹ فون استعمال نہیں کرتے، وہ کسی بھی قریبی مجاز ’نادرا‘ مرکز سے تصدیق کروا سکتے ہیں۔ مارچ اور ستمبر کے مخصوص مہینوں کا پرانا شیڈول بھی ختم کر دیا گیا ہے، یعنی تصدیق کے بعد اگلے 6 ماہ تک پنشن جاری رہے گی۔
تصدیق نہ ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ مقررہ 6 ماہ کے دوران ڈیجیٹل تصدیق نہ کروانے پر پنشن کی منتقلی عارضی طور پر روک دی جائے گی۔
تاہم، بینکوں کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کو ڈورمنٹ (غیر فعال) نہ کریں۔ تصدیق کا عمل مکمل ہوتے ہی رکی ہوئی پنشن کی رقم فوری طور پر اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔
پاکستان میں ریٹائرڈ افراد کو ہر سال مارچ اور ستمبر میں اپنی پنشن جاری رکھنے کے لیے بینکوں میں جا کر بائیو میٹرک کروانے یا لائف سرٹیفکیٹ دینے کے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔
فنگر پرنٹس میچ نہ ہونے یا فارم گم ہونے سے بزرگ شہریوں کی پنشن مہینوں لٹک جاتی تھی۔ حکومت کو بھی اس فرسودہ نظام کی وجہ سے گھوسٹ پنشنرز کی شکایات کا سامنا تھا۔ ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کاغذی نظام کا خاتمہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:پنشنرز کے لئے بڑی خوشخبری، پروف آف لائف سرٹیفکیٹ گھر بیٹھے مفت حاصل کرنے کی سہولت


