کولمبیا میں 7.4 شدت کے طاقتور زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 111 افراد ہلاک اور 87 زخمی ہوگئے جبکہ متعدد عمارتیں منہدم ہونے کے بعد کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ حکومت نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ملک میں قومی ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔
زلزلہ پیر کی صبح مغربی کولمبیا میں آیا جس کا مرکز صوبہ چوکوی کے علاقے سان خوسے دل پالمر کے قریب بتایا گیا ہے۔ امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 107 کلومیٹر تھی۔ شدید جھٹکے ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے جبکہ متعدد شہروں میں عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں چوکوی کے علاوہ ریسارالدا، ویلے دل کاوکا اور کالداس کے علاقے شامل ہیں۔ کیلی، پریرا، کوئبدو اور مانیثالس سمیت 20 سے زائد بلدیاتی علاقوں میں نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں جبکہ سیکڑوں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق متعدد افراد اب بھی منہدم عمارتوں کے ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبہ ہٹانے اور لوگوں کو زندہ نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا نے قومی خطاب میں ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرکے انہیں بحفاظت نکالنا ہے۔ حکومت نے امدادی اداروں کو متحرک کردیا ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ضروری وسائل پہنچانے کا عمل جاری ہے۔
زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے۔ بعض ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کی گئیں جبکہ سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امدادی ٹیمیں نقصان کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ متاثرین کو طبی امداد اور ضروری سامان فراہم کررہی ہیں۔
کولمبیا میں آنے والے اس شدید زلزلے کے بعد امریکا، میکسیکو اور اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک اور عالمی اداروں نے امداد کی پیشکش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور نقصانات کی حتمی تعداد امدادی کارروائیوں میں پیش رفت کے بعد واضح ہوگی اور ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش کے دوران ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
زلزلے کی شدت اور وسیع پیمانے پر تباہی نے کولمبیا میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کردی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو احتیاط برتنے اور ممکنہ مزید جھٹکوں کے پیش نظر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔