مہنگائی کا نیا وار! گندم کے بعد آٹے کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

مہنگائی کا نیا وار! گندم کے بعد  آٹے کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ

  گندم کے نرخ میں اضافے کے بعد ملک میں آٹے کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جس سے صارفین پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔فلور ملز نے مختلف اقسام کے آٹے کے نئے نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈھائی نمبر اور فائن آٹا مزید مہنگا ہوگیا ہے۔

ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں 15 روپے اضافہ

فلور ملز کی جانب سے ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔اضافے کے بعد ڈھائی نمبر آٹا 145 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

ریٹیل مارکیٹ میں یہی آٹا مزید مہنگا دستیاب ہے، جہاں اس کی قیمت 160 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ بنیادی خوراک کی قیمت بڑھنے سے گھریلو بجٹ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

فائن آٹا بھی مہنگا ہوگیا

فائن آٹے کے نرخ میں بھی 13 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔نئے اضافے کے بعد ریٹیل مارکیٹ میں فائن آٹا 175 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کو روزمرہ اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

چکی کا آٹا بھی 180 روپے کلو

چکی کے آٹے کی قیمت میں بھی 10 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔اضافے کے بعد چکی کا آٹا 180 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

مارکیٹ میں مختلف اقسام کے آٹے کے نرخ بڑھنے سے صارفین کو سستا آٹا دستیاب ہونے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔

گندم کے نرخ بھی بڑھ گئے

دوسری جانب گندم کی قیمت میں بھی 15 روپے فی کلو اضافہ سامنے آیا ہے۔اضافے کے بعد گندم کا نرخ 130 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔

فلور ملز کے مطابق گندم مہنگے داموں خریدنے کے بعد مقررہ سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

ملز مالکان کا مؤقف ہے کہ موجودہ نرخوں میں گندم کی خریداری اور آٹے کی تیاری کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔

فلور ملز کا حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ

فلور ملز نے آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ملز کی جانب سے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ گندم کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے فوری درآمد کا فیصلہ کیا جائے۔

فلور ملز نے حکومت سے 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :آٹے کی قیمتوں میں اضافہ تھم نہ سکا ،شہری ریلیف کے منتظر

ملز کے مطابق اضافی گندم کی دستیابی سے مقامی مارکیٹ میں رسد بہتر ہوسکتی ہے۔

اس اقدام سے گندم کے نرخ میں استحکام آنے اور آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صارفین پر مہنگائی کا نیا بوجھ

آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔

گندم اور آٹے کے نرخ بڑھنے سے روٹی سمیت متعدد اشیائے خورونوش کی لاگت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کیے جائیں۔

صارفین کے مطابق بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے محدود آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔

حکومت کی جانب سے گندم کی درآمد اور مارکیٹ میں رسد بہتر بنانے سے متعلق فیصلے آئندہ دنوں میں اہم قرار دیے جا رہے ہیں

editor

Related Articles