پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، 4 روز میں پیٹرول کتنا مہنگا ہوا ؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، 4 روز میں پیٹرول کتنا مہنگا ہوا  ؟

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر کئی روز سے مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے جس نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے آج کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے ، صرف پیٹرول ہی نہیں بلکہ ڈیزل بھی مزید مہنگا کر دیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

یوں گزشتہ چند روز سے جاری اضافے نے شہریوں کے گھریلو بجٹ کو مزید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

4 دن میں پیٹرول تقریباً 25 روپے مہنگا

اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 4 روز کے دوران پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 24 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔

اسی عرصے میں ڈیزل بھی 19 روپے 99 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا،  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہری پہلے ہی روزمرہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔

خاص طور پر موٹر سائیکل اور گاڑی استعمال کرنے والے افراد کے لیے ایندھن کا بڑھتا خرچ ماہانہ بجٹ پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔

کرایوں اور اشیائے خورونوش پر بھی اثرات 

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ  ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کے ساتھ اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے ، اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے روزمرہ زندگی مزید مشکل بنا دی ہے ،  کئی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : نیا آئی فون چھوڑیں، اسی بجٹ میں گاڑی لے لیں! پاکستانیوں کیلئے 5 آپشنز سامنے آگئے

دوسری جانب اگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو آنے والے دنوں میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

عوام حکومت سے ریلیف کے منتظر

مسلسل بڑھتی پیٹرولیم قیمتوں نے عام شہری کے لیے سب سے بڑا سوال یہ بنا دیا ہے کہ مہنگائی کا یہ دباؤ آخر کہاں جا کر رکے گا ، فی الحال عوام کی نظریں حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ ریلیف پیکیج یا قیمتوں میں کمی کے اقدام پر ہیں جہاں موجودہ اضافے کے بعد شہریوں کے لیے سفر، کاروبار اور روزمرہ اخراجات کا انتظام کرنا اور بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

editor

Related Articles