امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے،دوبارہ موقع ملا تو بھی یہی کرتا ، اس کے باوجود کہ اس تنازع کے نومبر میں ہونے والے امریکی مڈٹرم انتخابات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ میں لفظ افسوس پر یقین نہیں رکھتا، ہم ہمیشہ اپنے فیصلے پر کوئی نہ کوئی سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اگر مجھے دوبارہ یہی فیصلہ کرنا ہوتا تو میں بالکل وہی کرتا جو میں نے کیا ، انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کے بعض حامی جنگ کے باعث پریشان اور حوصلہ شکن ہو گئے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ حوصلہ شکن ہیں، میرے خیال میں انہیں اس بات پر بہت فخر ہے کہ میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ وسطِ مدتی انتخابات کے فوراً بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔
خبررساں ادارے کے مطابق ایران جنگ کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔
ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی عوام میں جنگ کے حوالے سے حمایت محدود ہونے کے آثار بھی موجود ہیں۔ رائٹرز/اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 25 فیصد امریکیوں نے جنگ کو قابلِ قدر قرار دیا تھا۔