بغیر برانچ جائے بزنس اکاؤنٹ کھولیں، تاجروں اور دکانداروں کے لیے نئی شریعہ ایپ متعارف

بغیر برانچ جائے بزنس اکاؤنٹ کھولیں، تاجروں اور دکانداروں کے لیے نئی شریعہ ایپ متعارف

’ایک بائی بینک اسلامی‘ نے ملک میں تاجروں اور دکانداروں کے لیے پاکستان کی پہلی مکمل شریعہ کمپلائنٹ بزنس ایپ ’ایک تجارت‘ لانچ کر دی ہے۔ اس جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا مقصد روایتی بینکاری سے دور لاکھوں چھوٹے کاروباری افراد کو سود سے پاک مالیاتی نظام کا حصہ بنانا ہے۔

ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل بینکاری کے اس دور میں پاکستان کے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔

’ایک بائی بینک اسلامی‘نے ’ایک تجارت‘کے نام سے ملک کی پہلی شریعہ کمپلائنٹ مرچنٹ ایپ متعارف کرا دی ہے۔ یہ مخصوص ایپ عام صارفین کے بجائے خالصتاً تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، تاکہ وہ اپنی آمدنی، ادائیگیوں اور کاروباری ترقی کو ایک ہی پلیٹ فارم پر منظم کر سکیں۔

ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور جدید سہولیات

رپورٹ کے مطابق اب کوئی بھی دکاندار، چھوٹا تاجر یا سروس پرووائیڈر کسی بھی بینک برانچ میں جائے بغیر اپنا مکمل شریعہ کمپلائنٹ بزنس اکاؤنٹ کھول سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کاروباری افراد کیلئے اہم خبر! ایف بی آر کے ڈیجیٹل نظام میں شامل نہ ہونیوالوں پر بھاری جرمانے کی تجویز

یہ عمل شناختی کارڈ اور بائیو میٹرک تصدیق کے ذریعے مکمل طور پر ڈیجیٹل رکھا گیا ہے۔ وہ صارفین جو پہلے ہی بینک اسلامی یا ’ایک‘ کنزیومر ایپ استعمال کر رہے ہیں، انہیں نئے سرے سے رجسٹریشن کے بجائے ایک انتہائی مختصر اور آسان طریقہ کار کے ذریعے اس ایپ پر منتقل ہونے کی سہولت دی گئی ہے۔

اکاؤنٹ ایکٹو ہونے کے بعد، تاجر ’راست‘کے ذریعے اسٹیٹک اور ڈائنامک کیو آر  کوڈز کی مدد سے فوری ادائیگیاں وصول کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہ اپنے سپلائرز کی ادائیگیاں، یوٹیلٹی بلز اور دیگر اخراجات براہِ راست اپنے بزنس بیلنس سے ادا کر سکیں گے، جبکہ ہر ٹرانزیکشن کی ڈیجیٹل رسید بھی شیئر کی جا سکے گی۔

کیش لیس اکانومی اور حکومتی وژن کی تکمیل

اس لانچ کے موقع پر بات کرتے ہوئے، ’ایک ڈیجیٹل‘ کے چیف آفیسر اشفاق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاجر ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن انہیں ڈیجیٹل بینکاری کے دائرے میں خاطر خواہ توجہ نہیں ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک تجارت‘ کے ذریعے ہم انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم دے رہے ہیں جو صرف ٹرانزیکشنز کے لیے نہیں، بلکہ ان کے کاروبار کے گرد گھومتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم کے کیش لیس پاکستان اور اسٹیٹ بینک کے کیش لیس ایجنڈے میں براہِ راست حصہ ڈال رہا ہے، کیونکہ ایک حقیقی کیش لیس معیشت اسی وقت بن سکتی ہے جب مرچنٹ کاؤنٹر کو ڈیجیٹل کیا جائے۔

کاروباری ترقی کا نیا ماڈل

’ایک‘ کے چیف بزنس آفیسر غفران عباسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ’ایک تجارت‘ محض ایک اور پیمنٹ ایپ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اسے تاجروں کو روزمرہ کے مسائل سے نکالنے اور ان کے کاروبار کی ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی بننے کے لیے تیار کیا ہے۔

غفران عباسی کے مطابق، اس پروجیکٹ کی کامیابی کا پیمانہ محض نئے صارفین بنانا نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کتنے تاجر اس ایکو سسٹم کے ذریعے ترقی کرتے ہیں۔

پاکستان کی غیر رسمی ریٹیل معیشت میں لاکھوں دکاندار، تاجر اور سروس پرووائیڈرز شامل ہیں جو روایتی بینکاری کے نظام سے باہر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:کاروبار شروع کرنا اور سرمایہ کاری اب اور بھی آسان، ایس آئی ایف سی نے پیچیدہ قواعد و ضوابط کا خاتمہ کردیا

ماضی میں ڈیجیٹل پیمنٹ کمپنیوں نے اس طبقے کو دستاویزی معیشت میں لانے کی کئی کوششیں کیں لیکن انہیں مکمل کامیابی نہ مل سکی۔

اس کی ایک بڑی وجہ سود یا غیر شرعی بینکاری نظام کے حوالے سے تاجروں کے خدشات تھے۔ بینک اسلامی کے اس قدم سے وہ بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے جو کئی تاجروں کو رسمی بینکاری نظام سے دور رکھے ہوئے تھی۔

’ایک تجارت‘ کا اجراء پاکستان کے ریٹیل سیکٹر میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ایپ کی سب سے بڑی طاقت اس کا ’شریعہ کمپلائنٹ‘ ہونا ہے، جو چھوٹے تاجروں کی نفسیاتی اور مذہبی رکاوٹ کو ختم کرتا ہے۔

جب تاجر اپنی سیلز اور سپلائرز کی ادائیگیاں ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کریں گے، تو سپلائی چین میں شفافیت آئے گی۔

مستقبل میں اسی ڈیجیٹل ریکارڈ اور ڈیٹا کی بنیاد پر ان چھوٹے تاجروں کو مائیکرو فنانسنگ یا قرض کی سہولیات بھی فراہم کی جا سکیں گی، جو پاکستان کی حقیقی معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بینک اسلامی کا یہ اقدام دراصل ان کے اس وسیع مشن کا حصہ ہے جس کے تحت وہ انسانیت کو سود سے بچانے اور شفاف، اخلاقی اور ٹیکنالوجی پر مبنی شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی حل فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

Related Articles