مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک بار پھر بڑی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے دعویٰ کیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کا تازہ ترین ماڈل مصنوعی جنرل انٹیلی جنس، یعنی اے جی آئی، کی پہلی مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔
اے جی آئی سے مراد ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو صرف ایک مخصوص کام تک محدود نہ ہو بلکہ انسانوں کی طرح مختلف نوعیت کے کام سمجھنے، سیکھنے اور انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے گزشتہ ہفتے اپنا نیا جی پی ٹی 6 ماڈل متعارف کرایا، جسے چیٹ جی پی ٹی آسٹرا کا نام دیا گیا ہے۔
نئے ماڈل نے مختلف بینچ مارک ٹیسٹس میں نمایاں کارکردگی دکھائی، جس کے بعد اسے اینتھروپک کے کلاؤڈ اور گوگل کے جیمینائی سمیت دیگر معروف اے آئی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ طاقتور قرار دیا جارہا ہے۔
ایک ساتھ کئی پیچیدہ کام
اوپن اے آئی کے مطابق نئے ماڈل میں کمپیوٹر استعمال کرنے، ویب براؤزنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، سائبر سیکیورٹی، سائنسی تحقیق اور مختلف پیشہ ورانہ کام انجام دینے کی جدید صلاحیتیں موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق ماڈل ایک ہی وقت میں کئی پیچیدہ کام مکمل کرسکتا ہے اور بعض کاموں میں اسے مسلسل انسانی نگرانی کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ایک مظاہرے کے دوران نئے اے آئی ماڈل نے صارف کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بیک وقت مختلف کام انجام دیے، جن میں ویڈیو گیم تیار کرنا اور قانونی دستاویز لکھنا بھی شامل تھا۔ یہی صلاحیتیں اس بحث کو مزید اہم بنا رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب محض سوالات کے جواب دینے والے چیٹ بوٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ پیچیدہ عملی کاموں کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔
نئے ماڈل کی رونمائی کے بعد این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اوپن اے آئی کی ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ اے جی آئی آ چکی ہے اور اوپن اے آئی کی ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ ہوانگ کا یہ بیان مصنوعی جنرل انٹیلی جنس کے حوالے سے جاری عالمی بحث میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اے جی آئی کو طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کی صنعت کا ایک بڑا ہدف سمجھا جاتا رہا ہے۔
تاہم کسی اے آئی نظام کو حقیقی معنوں میں اے جی آئی قرار دینا صرف ایک کمپنی یا ٹیکنالوجی رہنما کے دعوے سے طے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اس کی صلاحیتوں، خودمختاری اور مختلف شعبوں میں کارکردگی کا وسیع سائنسی جائزہ بھی ضروری ہوتا ہے۔