سونے کی پھر اونچی اڑان، اضافے نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

سونے کی پھر اونچی اڑان، اضافے نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی کا سلسلہ رک گیا اور جمعرات کو قیمتی دھات کی قیمت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سونے کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکا کے اہم افراطِ زر کے اعداد و شمار کا انتظار شامل ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے بعد 4 ہزار 410.28 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت 0.1 فیصد کمی کے بعد 4 ہزار 457.20 ڈالر فی اونس رہی۔

کمزور ڈالر نے سونے کو سہارا دے دیا

ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر میں کمزوری نے عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔ ڈالر میں قیمت والے سونے کی خریداری دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے نسبتاً سستی ہوجاتی ہے، جس سے سونے کی طلب میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

میریکس کے تجزیہ کار ایڈورڈ میئر کے مطابق فی الحال خلیج فارس میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی سونے کی قیمت کے لیے ثانوی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈالر قیمتی دھات کی قیمت کو سہارا دے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی شرح سود میں اضافے کے باوجود ڈالر کی قدر میں نمایاں بہتری نہیں آرہی، جس کے باعث سونے کو عالمی مارکیٹ میں سپورٹ مل رہی ہے۔

امریکی افراط زر کے اعداد و شمار اہم قرار

عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکا کے افراط زر کے نئے اعداد و شمار پر مرکوز ہے، جنہیں امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کی پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کلٹس گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بنک کی نئی آفر آ گئی

امریکی پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعداد و شمار جمعرات کو جبکہ صارف قیمتوں کا اشاریہ (CPI) جمعہ کو جاری کیا جائے گا۔

مارکیٹ میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ افراط زر کے اعداد و شمار سے امریکی مرکزی بینک کی آئندہ پالیسی کے بارے میں مزید واضح اشارے مل سکتے ہیں۔ اگر افراط زر میں کمی کے آثار نمایاں ہوئے تو شرح سود میں نرمی کی توقعات بڑھ سکتی ہیں، جو عموماً سونے کی قیمت کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہیں۔

فیڈرل ریزرو کی شرح سود پر بھی نظریں

رائٹرز کے حالیہ ماہرین اقتصادیات کے سروے کے مطابق اکثریت کی توقع ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو 15 اور 16 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے گا۔

سروے میں شامل ماہرین کی اکثریت کا یہ بھی خیال ہے کہ رواں سال کے باقی عرصے میں امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

شرح سود اور سونے کی قیمت کے درمیان تعلق کی وجہ سے سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں اور امریکی معاشی اعداد و شمار کو خاص اہمیت دے رہے ہیں۔

امریکی قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا

اے این زیڈ کے سینئر کموڈیٹیز اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنز کے مطابق امریکی مالیاتی دباؤ میں اضافہ بھی سونے کی قیمت کو سہارا دے رہا ہے۔

ان کے مطابق امریکی حکومتی قرضوں میں مسلسل اضافے سے حکومتی قرض اور امریکی کرنسی کی طویل مدتی قدر کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے جیسے اثاثوں کی جانب دلچسپی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکی حکومت کا مجموعی قرض پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا تھا، جس کے بعد امریکی مالیاتی صورتحال اور طویل مدتی قرضوں کے حوالے سے خدشات ایک بار پھر زیر بحث آئے ہیں۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں

دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔

عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ سلور 0.3 فیصد اضافے کے بعد 67.50 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

اس کے برعکس پلاٹینم 0.4 فیصد کمی کے بعد 1,888.05 ڈالر فی اونس پر آگیا، جبکہ پیلاڈیم کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے بعد 1,356.20 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں معمولی اضافے کے بعد اب سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی افراط زر کے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود کی پالیسی پر مرکوز ہے، جن سے قیمتی دھات کی قیمت کے اگلے رجحان کا اندازہ لگایا جاسکے گا

Qaisar Mirza
editor

Related Articles