بھارتی پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ کا نیا گانا ’ڈیول‘ ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ گانے کی ویڈیو میں احتجاج، پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی سمیت ایسے مناظر دکھائے گئے ہیں جنہیں بعض صارفین حالیہ طلبا احتجاج سے جوڑ رہے ہیں۔
میوزک ویڈیو میں بڑی تعداد میں لوگ احتجاج کرتے اور پلے کارڈز اٹھائے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے بعض پلے کارڈز پر ’سیواور فیوچر‘ اور, ’ہماری لڑائی‘ جیسے پیغامات درج ہیں۔
اگرچہ ویڈیو میں کسی مخصوص احتجاج، تنظیم یا تحریک کا نام نہیں لیا گیا، تاہم اس کے مناظر نے سوشل میڈیا صارفین کو جولائی میں ہونے والے طلبا مظاہروں کی یاد دلا دی ہے۔
گانے کی ویڈیو کے ایک منظر میں دلجیت دوسانجھ احتجاج کرنے والے افراد کے درمیان موجود دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پولیس اور مظاہرین کے درمیان حالات کشیدہ نظر آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ثاقب چدھڑ کے الزامات پر مومنہ اقبال کی بہن اور شوہر کھل کر بول پڑے
ویڈیو کے اختتام پر ایک کم عمر لڑکی ہاتھ میں سفید گلاب لیے پولیس اہلکار کی طرف بڑھتی ہے۔ پولیس اہلکار بھی آگے آکر اسے گلے لگا لیتا ہے۔
ویڈیو کے آخر میں ’ڈونٹ ٹری ایٹ ہوم‘ کا پیغام دکھایا گیا ہے، جس کے فوراً بعد ’ ای ایم این آرٹسٹ برو ‘ کے الفاظ سامنے آتے ہیں۔
احتجاجی مناظر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوگئی کہ آیا دلجیت نے اپنی ویڈیو میں حالیہ طلبا احتجاج کی عکاسی کی ہے یا یہ محض ایک تخلیقی انداز ہے۔
دلجیت کی جانب سے تاحال ایسی کوئی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی کہ گانے کی ویڈیو کسی مخصوص احتجاجی واقعے کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے۔
تاہم جولائی میں طلبا احتجاج کے دوران دیے گئے ان کے بیانات ایک بار پھر سوشل میڈیا پر زیر بحث آگئے ہیں۔
ایک انسٹاگرام لائیو سیشن کے دوران احتجاج سے متعلق سوال پر دلجیت نے کہا تھا کہ وہ ایک فنکار ہیں، سیاست دان نہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے ٹور میں مصروف تھے اور اس وجہ سے صورت حال سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈپریشن سے روحانی سفر تک، فرح شاہ نے زندگی کی بڑی تبدیلی بتادی
بعد ازاں انہوں نے طلبا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبا کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا اور حکام کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔
دلجیت نے اس موقع پر اپنے خلاف ماضی میں سامنے آنے والے الزامات کا بھی ذکر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کئی مرتبہ ’اینٹی نیشنل‘ قرار دیا جاچکا ہے اور خدشہ ہے کہ اس معاملے میں بھی انہیں اسی طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


