بلوچستان حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے حصول کے خواہشمند بے روزگار نوجوانوں کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے عمر کی بالائی حد میں عمومی رعایت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق، صوبے میں روزگار کے منتظر عام امیدواروں، معذور افراد اور شہدا کے قانونی ورثا کے لیے سرکاری ملازمت کے حصول کی خاطر عمر کی بالائی حد بڑھا کر 43 سال مقرر کر دی گئی ہے۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد ان تمام افراد کو روزگار کے مساوی اور منصفانہ مواقع فراہم کرنا ہے جو کسی وجہ سے مقررہ عمر کی حد عبور کر چکے تھے۔
دوسری جانب وہ سرکاری ملازمین جو اپنی سروس کے 2 سال مسلسل مکمل کر چکے ہیں، ان کے لیے ملازمتوں میں عمر کی بالائی حد 50 سال کر دی گئی ہے تاکہ وہ بھی اپنے کیریئر میں مزید ترقی کے مواقع حاصل کر سکیں۔
رعایت کی شرائط اور مدتِ اطلاق
ترجمان بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ ’رعایت‘ تمام اسامیوں کے لیے بلا تفریق یکساں نہیں ہے۔
خاص طور پر جن اسامیوں میں قواعد کے تحت زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 43 سال سے کم رکھی گئی ہے، وہاں اس عمومی رعایت کا اطلاق نہیں ہوگا۔
مزید برآں حکومت کی جانب سے دو ٹوک الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ امیدواروں کو عمر میں مزید کسی بھی قسم کی اضافی رعایت فراہم نہیں کی جائے گی۔ یہ نئی پالیسی جاری کردہ نوٹیفکیشن کی تاریخ سے آئندہ 3 سال تک مکمل طور پر مؤثر رہے گی۔
بلوچستان میں روزگار کے حوالے سے پرائیویٹ سیکٹر کے محدود ہونے کے سبب سرکاری ملازمتوں کا حصول نوجوانوں کی اولین ترجیح رہا ہے۔
تاہم بھرتیوں کے عمل میں طویل تاخیر اور محدود مواقع کے باعث ہر سال ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کی عمر ملازمت کی مقررہ حد سے تجاوز کر جاتی تھی۔
گزشتہ کئی ماہ سے صوبے کے مختلف حلقوں، سیاسی و سماجی کارکنان اور بالخصوص بے روزگار نوجوانوں کی جانب سے حکومت پر شدید دباؤ تھا کہ بھرتی کے عمل میں ہونے والی تاخیر کا ازالہ کرنے کے لیے عمر کی بالائی حد میں فوری رعایت دی جائے۔
موجودہ صوبائی حکومت کا یہ حالیہ فیصلہ اسی عوامی مطالبے اور نوجوانوں کے معاشی تحفظ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
عوامی اور انتظامی امور کے ایک ماہر تجزیہ کار کی حیثیت سے اگر اس حکومتی اقدام کا جائزہ لیا جائے تو یہ صوبے کے معروضی اور معاشی حالات کے تناظر میں ایک انتہائی خوش آئند، ہمدردانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔
بلوچستان میں روزگار کے متبادل ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کی وجہ سے نوجوانوں کا کلی انحصار ریاستی اداروں پر ہوتا ہے۔ بھرتیوں کے عمل میں بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سست روی کے باعث بے شمار قابل ڈگری یافتہ نوجوان ’اوور ایج‘ ہو کر شدید احساسِ محرومی کا شکار ہو رہے تھے۔
یہ 3 سالہ عمومی رعایت ان ہزاروں نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات اور دیگر سرکاری محکموں میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کا ایک نیا اور سنہرا موقع فراہم کرے گی، جس سے صوبے میں پائی جانے والی مایوسی میں کمی آئے گی۔
تاہم طویل المدتی معاشی استحکام اور بے روزگاری کے مستقل خاتمے کے لیے حکومت کو محض سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے نجی شعبے کی ترقی، صنعت کاری اور نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے پر بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔