بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا، مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھائیں گے، ترجمان دفتر خارجہ

بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا، مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھائیں گے، ترجمان دفتر خارجہ

 ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے، پاکستان کے وزرائے اعظم اور صدور دنیا بھر کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس میں بھی یہ معاملہ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔

ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔

سہارنپور میں مسجد مسمار کرنے کی مذمت

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان 5 ستمبر کو سہارنپور انڈیا میں پرانی مسجد کو منہدم کرنے کی سختی سے مذمت کرتا ہے ، یہ مذہبی آزادیوں کے خلاف ہے۔

ترجمان نے کہا کہ نہرو کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں مذہبی مقامات کو مسمار نہیں کریں گے ، بھارت میں اسلامی ورثے کو نشانہ بنانے کی مہم 1992 میں چار سو سالہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے شدت اختیار کر گئی ہے ۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے منظم ظلم و ستم، عبادت گاہوں کی مسلسل بے حرمتی و تباہی اور مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کا نوٹس لے ، پاکستان نے مذہبی آزادیوں اور مسلمانوں کے ثقافتی ورثے کی خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کے احتساب کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے یاسین ملک کے خلاف مقدمے اور ان کی صحت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کا حلف نامہ بھارتی عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی صحت کا جائزہ لیں۔

پاکستان کے دیگرممالک سے رابطے 

ترجمان دفترخارجہ سجاد حیدر نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے کرغزستان کادورہ کیا جس میں متعددایم اویوزطے پائے ،دونوں ممالک کے درمیان تعاون کوفروغ دینے کےعزم کااعادہ کیا گیا۔

ترجمان نے پاکستان اور دیگر ممالک کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں کے حوالے سے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا ،  دونوں وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں :وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ترک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ ، دوطرفہ اُمور پرتبادلہ خیال

اسحاق ڈار نے ناروے کے وزیر خارجہ سے بھی رابطہ کیا اور ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم کے انتقال پر شاہی خاندان اور ناروے کے عوام سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

مکہ دفاعی معاہدہ 

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے بتایا کہ مکہ معاہدہ خطے کی سلامتی کو ڈیٹرنس کے ذریعے یقینی بنانے والا دفاعی اتحاد ہے، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل مکہ معاہدے کے تحت مشاورت جاری ہے،مکہ معاہدہ بعد میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہوگا۔

سجاد حیدر خان نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، سعودی عرب اور پاکستان کا دو طرفہ دفاعی معاہدہ بھی ہے اور دونوں سہ ملکی معاہدے میں بھی ہیں۔

حوثی حملے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ

ترجمان دفترخارجہ سجاد حیدر نے سعودی عرب پرحوثیوں کےحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے حوثی حملوں میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیےکوششیں جاری رکھے گا۔

افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا معاملہ

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، تعلیمی ویزا ہونے کے باوجود یونیورسٹی میں رجسٹر نہ ہونے والے طلبہ کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔

نیپال کی امداد

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے 100 ٹن اشیا بھیجی گئیں،وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے نیپالی سفارت خانے کا دورہ کر کے اظہار تعزیت بھی کیا۔

ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اگلے سال 4 سے 11 اپریل تک ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا، سیف گیمز کے 8 روزہ مقابلے اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں منعقد ہوں گے۔

سجاد حیدر کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا گیمز کے لیے دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے جا چکے ہیں، کسی کے شریک ہونے یا نہ ہونے کے باوجود گیمز ہوں گی، توقع ہے کہ تمام ممالک جنوبی ایشیا گیمز شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ سجاد حیدر خان پاکستانی دفتر خارجہ کے نئے ترجمان ہیں، انہوں نے 2 ستمبر 2026 کو یہ عہدہ سنبھالا،میڈیا نمائندوں کے ساتھ آج ان کی پہلی نیوز بریفنگ ہے۔

editor

Related Articles