مقبول یوٹیوبر اور تجزیہ کار دھرو راٹھی نے اپنی تازہ ترین ویڈیو میں بھارتی میڈیا اور سیاسی آئی ٹی سیلز کے اس مکروہ اور منظم کھیل کو بے نقاب کیا ہے جس کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے اور ان کا برین واش کرنے کے لیے جھوٹی خبروں اور مصنوعی ذہانت (AI) کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
دھرو راٹھی کے مطابق بھارتی میڈیا، جسے “گودی میڈیا” کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک طے شدہ منصوبے اور پری پلاننگ کے تحت جھوٹ بولتا ہے اور پھر پوری پروپیگنڈا فیکٹریاں اور آئی ٹی سیلز اسے عوام کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔
دھرو راٹھی نے بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسا جھوٹا انسان ہے جو ایک ہی غلط اور من گھڑت بات کو بار بار دہراتا ہے تاکہ سننے اور دیکھنے والے کو وہ سچ لگنا شروع ہو جائے۔
میڈیا اور آئی ٹی سیل کی جانب سے طویل عرصے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دھرو راٹھی ایک غیر ملکی یعنی “جرمن” شہری ہیں۔
ارنب گوسوامی سمیت دیگر میڈیا چینلز نے نفسیاتی حربے “اللوژن ٹروتھ ایفیکٹ” (Illusory Truth Effect) کے تحت بار بار “جرمن، جرمن” کا لفظ دہرایا تاکہ عوام اسے حقیقت ماننے پر مجبور ہو جائیں بعد میں جب باقی بھارتی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ہینڈلز نے بھی اسی جھوٹ کو پھیلانا شروع کیا تو یہ ایک منظم بیانیہ بن گیا۔
مین اسٹریم میڈیا کا زوال: صحافتی اصولوں کی پامالی اور بغیر ثبوت سرخیاں
معروف میڈیا اداروں نے بھی تمام بنیادی صحافتی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پروپیگنڈا کو نہ صرف جگہ دی بلکہ اسے خوب بڑھاوا دیا،سی این این نیوز 18 (CNN News18) اور نو بھارت ٹائمز جیسے چینلز اور اخبارات نے ایسی سنسنی خیز سرخیاں چلائیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ لندن کے احتجاج میں ہندوستانیوں سے زیادہ دیگر افراد موجود تھے، لیکن گراؤنڈ پر حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔سچائی جانچنے کے بجائے میڈیا نے محض سیاسی آقاؤں کے اشارے پر بغیر کسی ثبوت کے ایسی سرخیاں شائع کیں جو عوامی ذہن سازی کا باعث بنیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال اور جھوٹ کا دفاع
اس پروپیگنڈا مہم میں مصنوعی ذہانت (AI) کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ایک ہندوستانی شہری کی اصل تصویر کو AI کے ذریعے ایڈٹ کر کے اس کے ہاتھ میں دوسرے ملک کا پرچم تھما دیا گیا تاکہ احتجاج کو بدنام کیا جا سکے۔
جب دھرو راٹھی نے اپنا اصل ہندوستانی پاسپورٹ آن کیمرہ دکھا کر اس جھوٹ کا پردہ فاش کیا تو پروپیگنڈا فیکٹریوں نے ایک نیا بیانیہ گھڑ لیا اور اس پاسپورٹ کو بھی “جعلی” اور “AI جنریٹڈ” قرار دینے کی کوشش کی۔