سینئر تجزیہ کار مزمل سہروردی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے اکتوبر 2026 میں ریفرنڈم کی تیاری کی جا رہی ہے۔
آزاد پوڈ کاسٹ میں میزبان عدیل آصف سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے کہا کہ موجودہ تیاری اکتوبر میں صوبوں میں ریفرنڈم کے لیے ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ریفرنڈم اکتوبر کے وسط یا آخر میں ہو سکتا ہے۔
مزمل سہروردی نے ریفرنڈم کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام سے ایک سوال پوچھا جاتا ہے جس کا جواب ہاں یا نہ میں دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ریفرنڈم کے سوال کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری ضروری ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکتوبر میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا، جہاں سادہ اکثریت سے ریفرنڈم کے سوال کی منظوری کرائی جائے گی۔ ان کے مطابق سوال یہ ہوگا کہ کیا عوام پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس بنانے کے حق میں ہیں یا نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں مزمل سہروردی نے کہا کہ وہ خود نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حق میں ہیں۔
نئے صوبوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے مؤقف سے متعلق سوال پر مزمل سہروردی نے کہا کہ پیپلز پارٹی ریفرنڈم میں لچک کا مظاہرہ نہ بھی کرے تو اس کے بغیر ریفرنڈم کے ووٹ کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دے گی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے کچھ ارکان بھی ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اسی طرح ریفرنڈم کی منظوری ہوگی۔
مزمل سہروردی نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعلق بھی دعویٰ کیا کہ وہ عمران خان سے ملنا نہیں چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کی محسن نقوی کے ساتھ دوستی ہے اور وہ ان کے ساتھ راز و نیاز کرتے ہیں۔ مزمل سہروردی نے کہا کہ اگر سہیل آفریدی عمران خان سے ملنا چاہیں تو محسن نقوی انہیں ملاقات کروا سکتے ہیں۔
مزمل سہروردی کے مطابق انہیں لگتا ہے کہ سہیل آفریدی عمران خان سے ملنا ہی نہیں چاہتے، کیونکہ ملاقات کی صورت میں عمران خان ایسی ہدایات دے سکتے ہیں جن پر عمل کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ بغیر ہدایات کے چل رہے ہیں، اس لیے انہیں ہدایات لینے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے سہیل آفریدی اور محسن نقوی کے تعلق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ’’بہترین دوست‘‘ ہیں۔
عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج میں شرکاء کی تعداد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مزمل سہروردی نے رانا ثناء اللہ کے بیان کا حوالہ دیا کہ اگر چار لاکھ افراد لے آئے جائیں تو عمران خان رہا ہو جائیں گے، بعد ازاں دو لاکھ افراد کی بات بھی کی گئی۔
مزمل سہروردی نے کہا کہ ان کے خیال میں ایک لاکھ افراد بھی اسلام آباد آکر بیٹھ جائیں تو حکومت عمران خان کو رہا کر دے گی۔
تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی پیش گوئی کے مطابق کتنے افراد آئیں گے تو انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے تقریباً 10 ہزار افراد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 10 ہزار افراد سے بڑا شو نہیں ہوگا اور 10 ہزار افراد سے انقلاب نہیں آتا۔ ان کے مطابق 10 ہزار افراد ایک سیاسی جلسے کے لیے کافی تعداد ہے اور جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت ہر سیاسی جماعت 10 ہزار افراد اکٹھے کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی بھی 10 ہزار افراد اکٹھے کر لے تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔