سینئر صحافی عرفان خان نے ’’آزاد ڈیجیٹل‘‘ پر اپنے وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ ایک جانب نوشہرہ میگا سٹی اسکینڈل کی نیب انکوائری جاری ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے آپ کو بچانے کے لیے محکمانہ تحقیقات یا انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
عرفان خان کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد کے محکمے، محکمہ ہاؤسنگ میں 3 ارب 75 کروڑ روپے کے نوشہرہ میگا سٹی اسکینڈل کی ایک اور انکوائری شروع کردی گئی ہے۔ اس بار یہ انکوائری محکمے کی جانب سے شروع کی گئی ہے، جس کے لیے باقاعدہ طور پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم اس بات کی تحقیقات کرے گی کہ خیبر پختونخوا حکومت یا محکمہ ہاؤسنگ نے جس نجی فرم یا کمپنی کو نوشہرہ میگا سٹی کے حوالے سے 3 ارب 75 کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کی، اس نے اب تک کیا پیشرفت دکھائی ہے، اراضی کی موجودہ حیثیت کیا ہے اور ڈویلپمنٹ کی کیا صورت حال ہے۔
سینئر صحافی کے مطابق یہ محکمے کی جانب سے کرائی جانے والی ایک الگ انکوائری رپورٹ ہے، جس کے لیے قانونی کارروائی بھی کی جاچکی ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ محکمہ ہاؤسنگ نے 3 ارب 75 کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کس کے کہنے پر کی؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس وقت صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد اس بات سے لاعلم تھے کہ محکمہ ہاؤسنگ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایک ایسی نجی کمپنی کے ساتھ ایم او یو سائن کررہا ہے جس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ اراضی دریا کے کنارے واقع ہے، اس کا سرے سے لینڈ ریکارڈ موجود نہیں اور وہ اراضی بظاہر موجود ہی نہیں۔
عرفان خان نے کہا کہ 16 ہزار کنال اراضی کے عوض نجی فرم یا کمپنی کو 3 ارب 75 کروڑ روپے کی ایڈوانس ادائیگی کی گئی تو اس وقت یہ سوالات کیوں نہیں اٹھائے گئے؟ متعلقہ پٹواری یا اراضی کے دیگر ریکارڈ کو اس وقت کیوں نہیں چیک کیا گیا اور ایسی کیا مجبوری تھی کہ محکمہ ہاؤسنگ کی جانب سے ایم او یو سائن کیا گیا؟
انہوں نے کہا کہ اگر 2022، 23 میں ایم او یو سائن ہونے کے بعد 4، 5 سال کے دوران 3 ارب 75 کروڑ روپے کی ادائیگی ہوچکی ہے تو اب یہ نوبت کیوں پیش آرہی ہے کہ ایک اور انکوائری کرائی جارہی ہے کہ نجی فرم یا کمپنی نے اب تک کتنی اراضی ڈویلپ کی ہے یا کتنی اراضی اس کے پاس موجود ہے؟
عرفان خان کے مطابق اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ قومی احتساب بیورو نے بھی نوشہرہ میگا سٹی اسکینڈل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ نیب نے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کو کال اپ نوٹسز بھیجے، انہیں طلب کیا اور ان سے تمام تفصیلات کا ریکارڈ بھی مانگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب نے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کے خاندان یا رشتہ داروں، جن کی تعداد 31 بتائی جارہی ہے، کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ جب ڈاکٹر امجد کو علم ہوا کہ ان کے خلاف گھیرا تنگ ہورہا ہے اور ان پر عائد کرپشن کے الزامات کے حوالے سے نیب انہیں بار بار طلب کررہی ہے تو خیبر پختونخوا اسمبلی کا فلور استعمال کیا گیا اور اس وقت کے ڈی جی نیب کو بھی طلب کیا گیا، جن سے معلومات حاصل کی گئیں۔
سینئر صحافی نے بتایا کہ نیب میں بھی اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ تحقیقات تقریباً آخری مراحل میں ہیں یا اس حد تک پہنچ چکی ہیں جہاں بہت سارے نام سامنے آنے کا خدشہ ہے۔
ان کے مطابق اسی لیے بتایا جارہا ہے کہ اب صوبائی وزیر نے سارا ملبہ نجی فرم یا کمپنی پر ڈالنے اور خود کو اس معاملے میں بچانے کے لیے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔ انکوائری کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ تحقیقات کی جائیں کہ اگر حکومت نے اس فرم کو 3 ارب 75 کروڑ روپے دیے ہیں تو 3، 4 سال کے دوران نوشہرہ میگا سٹی کے حوالے سے اس کی کیا پیشرفت ہوئی اور اب تک کیا کچھ کیا گیا ہے۔
عرفان خان کے مطابق بظاہر یہ معاملہ ایسا لگ رہا ہے کہ وہاں وہ زمین ہی موجود نہیں جس کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق یہ اراضی دریا کے کنارے واقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیسپاک کمپنی کو جو ٹھیکہ دیا گیا تھا، اس حوالے سے بھی ایک رپورٹ موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق چونکہ یہ اراضی فلڈ ایریا میں ہے، اس لیے اسے ڈویلپ کرنے یا پروٹیکشن وال تعمیر کرنے کے لیے تقریباً 93 یا 95 کروڑ روپے کی اضافی رقم طلب کی گئی ہے، تاکہ پروٹیکشن وال تعمیر کی جاسکے اور اس اراضی یا میگا سٹی کو مستقبل میں سیلاب سے بچایا جاسکے۔
سینئر صحافی نے محکمہ ہاؤسنگ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک مقامی پٹواری سے جب اجلاس میں سوال کیا گیا اور ریکارڈ طلب کیا گیا تو انہوں نے اجلاس میں کہا کہ 16 ہزار کنال اراضی میں سے بیشتر اراضی کا نہ تو ان کے پاس کوئی ریکارڈ ہے، نہ وہاں کوئی اونرشپ ہے اور نہ ہی پٹوار میں اس کا کوئی اندراج ہے۔
عرفان خان کے مطابق محکمہ ہاؤسنگ خیبر پختونخوا میں 3 ارب 75 کروڑ روپے کا یہ ایک بڑا اسکینڈل ہے، جس میں اب ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے یا اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس طرح کا کھیل کھیلا جارہا ہے کہ ایک جانب نیب کی انکوائری جاری ہے، جبکہ دوسری جانب اپنے آپ کو بچانے کے لیے محکمانہ تحقیقات یا انکوائری کا حکم دیا گیا ہے۔