سندھ میں ٹیچرز کی تنخواہ کا بڑا اسکینڈل، میرے پاس نہ کوئی کاغذ ہے، نہ نوکری لیکن پھر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، متاثرہ خاتون ٹیچر کی دہائی
Home - آزاد انتخاب - سندھ میں ٹیچرز کی تنخواہ کا بڑا اسکینڈل، میرے پاس نہ کوئی کاغذ ہے، نہ نوکری لیکن پھر بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، متاثرہ خاتون ٹیچر کی دہائی
سندھ، نوری آباد میں کم تعلیم یافتہ خاتون کی جونیئر ٹیچر تقرری کے بعد بڑا مالیاتی اسکینڈل، سامنے آیا ہے جس کے بعد میرپورخاص پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک غریب اور کم تعلیم یافتہ خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے نام پر مبینہ طور پر جعلی نوکری اور لاکھوں کا قرض نکالا گیا ہے، جبکہ انہیں شدید ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سندھ کے مختلف علاقوں سے سرکاری محکموں میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے نئے اور حیرت انگیز انکشافات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی سلسلے میں نوری آباد سے تعلق رکھنے والی ایک غریب خاتون نے ایوانِ صحافت (پریس کلب) میرپورخاص میں میڈیا کے سامنے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ محض 8 ویں جماعت تک پڑھی ہوئی ہیں اور ان کا تعلیمی یا ملازمت کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔
دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کا انکشاف
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کے نام پر محکمہ تعلیم میں مبینہ طور پر نوکری ظاہر کی گئی ہے اور ان کے نام سے بینکوں سے بھاری قرضے (لون) بھی نکالے گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو اس حوالے سے کوئی باضابطہ کاغذ موجود ہے اور نہ ہی انہیں اس مکروہ دھندے کی کوئی خبر تھی۔
جب اس معاملے کی بازگشت شروع ہوئی تو بااثر مافیا اور جعل سازوں کے گٹھ جوڑ نے انہیں قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں میں الجھا دیا۔
پولیس کی جانب سے دباؤ اور ہراسانی
پریس کانفرنس کے دوران آبدیدہ ہو کر خاتون نے بتایا کہ وہ اور ان کا پورا گھرانہ غریب مزدوروں پر مشتمل ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے محنت مزدوری کرتے ہیں۔
اس فراڈ کے سامنے آنے کے بعد اب پولیس اور متعلقہ عناصر کی جانب سے انہیں بلاوجہ تنگ اور ہراساں کیا جا رہا ہے، جس سے ان کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ کے تعلیمی اور انتظامی نظام میں جعلی تقرریوں، گھوسٹ ملازمین اور غریب افراد کے کوائف چوری کر کے ان کے نام پر مالیاتی ادارے یا سرکاری خزانے سے رقوم ہتھیا لینے کے اسکینڈلز پرانے ہیں۔
ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جہاں بااثر افراد نے غریب اور ناخواندہ شہریوں کے شناختی کارڈ اور ذاتی کوائف کو فرضی ملازمتوں اور بینک لون کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
محکمہ تعلیم کے اندر موجود مبینہ کرپٹ مافیا اس قسم کے غیر قانونی نیٹ ورکس کو چلانے میں ملوث رہا ہے، جو غریبوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
معاشرتی اور انتظامی کرپشن کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ میرپورخاص پریس کلب میں سامنے آنے والا یہ کیس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سندھ میں مالیاتی اور انتظامی فراڈ کس نچلی سطح تک سرایت کر چکا ہے۔
جب آٹھویں جماعت پاس ایک بے سہارا خاتون کو اس کے علم کے بغیر سرکاری ملازم ظاہر کر کے کروڑوں یا لاکھوں کے لون نکلوا لیے جائیں، تو یہ صرف کرپشن نہیں بلکہ انسانیت سوز استحصال ہے۔
اس معاملے میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ، اینٹی کرپشن اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی آر سے وابستہ تفتیشی ونگز) کو فوری طور پر سو موٹو نوٹس لینا چاہیے۔
اس بات کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہیے کہ کون سے افسران اور بینک ملازمین اس گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں جنہوں نے غریب خاتون کے نام پر دستاویزات تیار کیں۔
اگر اس سطح کے اسکینڈلز میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا، تو کمزور طبقات کا قانون پر سے اعتبار بالکل اٹھ جائے گا۔